بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سٹی کونسل اجلاس میں اُس وقت شدید کشیدگی پیدا ہوگئی جب جماعت اسلامی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے منتخب اراکین کے درمیان تلخ کلامی بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی اور دھکم پیل تک جا پہنچی۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمپلیکس کے باہر عمر ایوب سے ہاتھا پائی کس نے کی؟
میئر کراچی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ کی تقریر کے بعد پیپلزپارٹی کے رکن نجمی عالم کی تقریر کے دوران ایوان کا ماحول اچانک کشیدہ ہوگیا۔ اس موقع پر دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔
صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب جماعت اسلامی کے اراکین نے میئر کی ڈائس کے سامنے احتجاج شروع کیا اور نعرے بازی کی، جس پر پیپلزپارٹی کے اراکین بھی اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس دوران دونوں جماعتوں کے اراکین کے درمیان دھکم پیل اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
کشیدگی کے بعد جماعت اسلامی کے اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا، تاہم میئر کراچی نے اجلاس جاری رکھا اور ہنگامہ آرائی کے باوجود اجلاس تقریباً ایک گھنٹے تک چلتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: اسمبلی اجلاس میں پی ٹی آئی کے دوگروپوں کے درمیان ہنگامہ آرائی،گالم گلوچ،ہاتھاپائی، وجہ کیا بنی؟
جماعت اسلامی کے واک آؤٹ کے باوجود دیگر جماعتوں کے اراکین ایوان میں موجود رہے، تاہم بعد ازاں اپوزیشن لیڈر کی واپسی پر انہیں اظہار خیال کا موقع نہ ملنے پر ایک بار پھر احتجاج شروع ہوگیا۔
بعد ازاں میئر کراچی نے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی وجہ سے یہ لوگ ایوان میں پہنچے، ورنہ انہیں موقع نہیں ملتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے باعث بھی جماعت اسلامی کو فائدہ ہوا۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے الزام عائد کیا کہ میئر کراچی کے اشارے پر اشتعال انگیز تقاریر کرائی گئیں اور ایوان میں باہر سے افراد لاکر بٹھائے گئے جنہوں نے کونسل اراکین کے ساتھ تشدد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شوبز میں خواتین کی ہاتھا پائی بھی ہوتی ہے، لڑائی اچھی نہیں لیکن ہوجائے تو’ تُن کے رکھو‘، نوشین شاہ
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اجلاس پرامن ماحول میں ہو، تاہم حکومت کا رویہ مختلف تھا۔














