وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں اہم مذاکرات جاری ہیں۔
کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ پاکستان کا یہ مصالحتی کردار نہ صرف خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے بلکہ یہ خود پاکستان کے لیے ایک عظیم تزویراتی اور معاشی موقع بن کر ابھرا ہے۔
معاشی استحکام اور عالمی اداروں کا اعتماد
معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق اسلام آباد میں جاری ان مذاکرات نے پاکستان کا مثبت رخ اجاگر کیا ہے۔ اور اس سفارتی کردار کی وجہ سے امریکا اور مغربی ممالک کے رویے میں واضح تبدیلی آئی ہے، جس کے اثرات آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ساتھ جاری معاملات پر پڑ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: حکومت معیشت کو استحکام، مضبوطی اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن کرے گی، وزیرخزانہ
انہوں نے کہاکہ اب پاکستان کے لیے آسان شرائط پر مالی معاونت کے حصول کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
توانائی بحران کا حل اور مہنگائی میں کمی
شہریار بٹ نے کہاکہ اگر اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے تو پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ پاکستان کے توانائی بحران کا سب سے سستا اور پائیدار حل ہے۔ اس کے علاوہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام سے پاکستان کا درآمدی بل کم ہوگا، جس کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو مہنگائی میں کمی کی صورت میں ملے گا۔
معاشی ماہر محمد حمزہ گیلانی نے کہاکہ پاکستان میں ہونے والے ان مذاکرات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ ملک ہے، اور آنے والے وقتوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری کا مطلب ہے روزگار، اور روزگار کا مطلب ہے کہ لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا، جس سے مہنگائی قابو میں آئے گی۔
حمزہ گیلانی نے کہاکہ مجموعی طور پر سفارتی محاذ پر ہم کامیاب ہیں لیکن اس کامیابی کا پیمانہ دیگر شعبوں تک وسیع کرنا ہوگا، سرمایہ کار دوست پالیسی لانا ہوگی، مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
تاجر رہنما عتیق میر نے ان مذاکرات پر مسرت کا اظہار کتے ہوئے اس پیش رفت کو گیم چینجر قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی اس جغرافیائی اہمیت اور بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو داخلی سیاسی استحکام کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب رہا تو 2026 کے اختتام تک ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بھرپور مواقع ہیں، اور اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں مقامی تاجر کو بھی بھرپور فوائد پہنچ سکتے ہیں۔
روپے کی قدر میں اضافے کا امکان
کرنسی کے کاروبار سے وابستہ ظفر پراچہ کا کہنا ہے ملک میں ایک مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کامیاب سفارتکاری کے بعد اگر اپنے ملک کے اندر کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ لیں تو مستقبل میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا، اور ویسے بھی اس جنگ کے بعد دنیا کا معاشی نقشہ تبدیل ہونے جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی فری لانس انڈسٹری ڈیجیٹل معیشت کا ابھرتا ہوا عالمی مرکز کیسے بن رہی ہے؟
ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ پاکستان نے خود کو جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک مستحکم معاشی پل کے طور پر منوا لیا ہے۔
اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات محض دو ممالک کی صلح کا ذریعہ نہیں، بلکہ پاکستان کی معاشی خود مختاری اور عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرنے کا پیش خیمہ ثابت ہورہے ہیں۔














