بھارت کی نامور اور عہد ساز گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال کی خبر نے موسیقی کی دنیا کو سوگوار کر دیا ہے۔ اپنے طویل کیریئر میں انہوں نے ہزاروں گانے گا کر برصغیر کی موسیقی پر گہرے نقوش ثبت کیے۔
معروف بھارتی پلے بیک سنگر آشا بھوسلے انتقال کر گئی ہیں، جس کے بعد بھارت سمیت دنیا بھر میں ان کے مداح غمزدہ ہیں۔ ان کا شمار برصغیر کی عظیم ترین گلوکاراؤں میں ہوتا تھا، جنہوں نے اپنی منفرد اور ہمہ جہت آواز کے ذریعے کئی دہائیوں تک موسیقی کی دنیا پر راج کیا۔
The Queen of Indian music industry: ASHA BHOSLE PASSES AWAY at the age of 92 due to heart attack
The legendary singer took her last breath in Mumbai. pic.twitter.com/WZfAJ1OohP
— The Tatva (@thetatvaindia) April 12, 2026
آشا بھوسلے 8 ستمبر 1933 کو بھارت میں پیدا ہوئیں اور کم عمری میں ہی گلوکاری کا آغاز کر دیا۔ وہ معروف گلوکارہ لتا منگیشکر کی بہن تھیں، تاہم انہوں نے اپنی محنت اور الگ انداز کے ذریعے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔
رپورٹس کے مطابق آشا بھوسلے نے اپنے کیریئر میں 12 ہزار سے زائد گانے مختلف زبانوں میں گائے، جن میں ہندی، اردو، مراٹھی، بنگالی، پنجابی اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔ ان کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کروانے والی گلوکاراؤں میں کیا جاتا ہے۔

ان کے مقبول ترین گانوں میں “پیا تو اب تو آجا”، “دم مارو دم”، “چورا لیا ہے تم نے”، “یہ میرا دل”، “آجا آجا میں ہوں پیار تیرا” اور “ان آنکھوں کی مستی” جیسے لازوال نغمے شامل ہیں، جو آج بھی شائقین میں بے حد مقبول ہیں۔
انہوں نے کلاسیکی، غزل، قوالی، پاپ اور فلمی موسیقی سمیت ہر صنف میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور بڑے بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کی گائیکی میں جدت اور ورسٹائل انداز انہیں دیگر گلوکاراؤں سے ممتاز بناتا تھا۔
آشا بھوسلے کو متعدد فلم فیئر ایوارڈز سمیت کئی قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی آواز نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان اور دنیا بھر میں یکساں طور پر سنی اور پسند کی جاتی رہی۔

ان کے انتقال سے موسیقی کی دنیا کا ایک سنہری باب بند ہو گیا ہے، تاہم ان کے گائے ہوئے لازوال نغمے ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آنے والی نسلوں کو محظوظ کرتے رہیں گے۔
آشا بھوسلے 8 ستمبر 1933 کو بھارت کے شہر سنگلی میں پیدا ہوئیں۔ وہ مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں اور بچپن ہی سے موسیقی کے ماحول میں پروان چڑھیں۔ انہوں نے کم عمری میں ہی فلمی گیت گانا شروع کر دیے اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی ایک الگ شناخت قائم کر لی۔
ان کے کیریئر کا آغاز اگرچہ مشکلات سے بھرپور تھا، تاہم انہوں نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے بالی ووڈ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آشا بھوسلے نے رومانوی، کلاسیکی، غزل، قوالی اور پاپ سمیت تقریباً ہر صنف میں گیت گائے اور اپنی ہمہ جہتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
یہ بھی پڑھیں:‘امیتابھ کی جراب، لتا منگیشکر کی ساڑھی چاہیے’ بشریٰ انصاری کے انوکھے مطالبے پر صارفین برس پڑے
انہوں نے اپنے طویل کیریئر میں ہزاروں گانے ریکارڈ کروائے، جن میں مختلف زبانوں کے گیت شامل ہیں۔ آشا بھوسلے نے بھارتی فلم انڈسٹری کے نامور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا اور کئی یادگار گیت تخلیق کیے جو آج بھی بے حد مقبول ہیں۔
انہیں متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں فلم فیئر ایوارڈز اور دیگر اہم اعزازات شامل ہیں۔ ان کی گائیکی نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان اور دنیا بھر میں یکساں طور پر سنی اور پسند کی جاتی رہی۔
آشا بھوسلے کے انتقال سے موسیقی کی دنیا کا ایک سنہری باب ختم ہو گیا ہے، تاہم ان کی آواز اور فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ مداحوں اور فنکار برادری نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔













