آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی، اگلا نمبر کیوبا کا ہوگا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو

پیر 13 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایران نے امریکا سے رابطہ کیا ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر معاہدہ طے کرنے کی ’شدید خواہش‘ رکھتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک نئی ڈیل کے لیے بے تاب ہیں، سابقہ مذاکرات میں بہت سی باتوں پر سمجھوتہ ہو چکا تھا اور امریکی وفد نے بہتر انداز میں بات چیت کی، تاہم ایران کے برے رویے اور یورینیم کے معاملے پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے پاس اب دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا، ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی میڈیا پر تنقید

صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکا کسی بھی ملک کی بلیک میلنگ قبول نہیں کرے گا۔

عالمی تجارتی گزرگاہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ہے اور وہاں ناکہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد تیل بردار بحری جہاز امریکا کے لیے تیل لے کر آ رہے ہیں اور اگرچہ کئی ممالک نے ایران کی ناکہ بندی میں مدد کی پیشکش کی ہے، لیکن امریکا کو اس کام کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے ایک نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے بعد اب کیوبا کی باری ہے، جبکہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کو بھی ہر صورت حاصل کر لیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو ایک ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام اور خاص طور پر کیوبا-امریکنز کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا ہے، جس کا اب حساب لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ بندی کے حوالے سے قوم سے خطاب کیوں نہیں کیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

خلیجی خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر نے بتایا کہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی شروع کر دی گئی ہے تاکہ ایران کو دنیا کو بلیک میل کرنے سے روکا جا سکے۔

 ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس ناکہ بندی کے لیے کسی دوسرے ملک کی مدد کی ضرورت نہیں کیونکہ امریکہ اب تیل اور گیس کی پیداوار میں دنیا میں سب سے آگے ہے اور کئی بحری جہاز امریکہ سے تیل لینے کے لیے آرہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پوپ لیو کے حوالے سے معذرت کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ پوپ ایران کے معاملے پر غلط موقف رکھتے ہیں، جبکہ امریکا میں قانون کی حکمرانی اور جرائم میں کمی ان کی ترجیح ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے اعلان کیا کہ 14 جون کو وائٹ ہاؤس میں ایک بڑا یو ایف سی مقابلہ منعقد کیا جائے گا جس کے لیے خصوصی ایرینا تعمیر کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے 2020 کے انتخابات کے حوالے سے اپنے پرانے موقف کو دہراتے ہوئے اسے دھاندلی زدہ قرار دیا اور کہا کہ اگر ملک میں صحیح قیادت ہوتی تو یہ تمام عالمی مسائل بہت پہلے حل ہو چکے ہوتے۔

ایران امریکا مذاکرات کی کامیاب میزبانی: وفاقی کابینہ کی جانب سے اظہار تشکر کی قرارداد منظور، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

وفاقی کابینہ نے ایران اور امریکا کے درمیان نصف صدی پر محیط تعطل ختم کروانے اور اسلام آباد مذاکرات کی کامیاب میزبانی پر اظہار تشکر کی قرارداد منظور کرلی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ بلاشبہ اقوامِ عالم کی تاریخ میں پاکستان کا یہ امن پسندانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی پاکستانیوں سے متاثر، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اہم قرار دیدی

قرارداد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں شخصیات نے راتیں جاگ کر انتہائی احسن طریقے سے معاملات کو سنبھالا اور اپنے معاونین کے ہمراہ انتھک محنت، لگن اور تدبر کے ساتھ دو متحارب فریقین کو ایک میز پر بٹھایا۔

کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستانی قیادت کی یہ مخلصانہ کوششیں دنیا میں قیامِ امن کا باعث بنیں گی۔

واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان دہائیوں سے جاری سرد جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں کلیدی سفارتی متحرک دکھائی ہے۔

 اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد خطے میں جنگ کے بادلوں کو چھٹنا اور براہِ راست رابطے کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا۔

پاکستان نے ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود کو ‘اسلام آباد مذاکرات’ کے لیے مدعو کیا تھا، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں ثالثی بھارت کے لیے دھچکا، برطانوی اخبار

اگرچہ فریقین کے درمیان کسی سمجھوتے پر اتفاق نہ ہوا، مذاکرات کے بعد ایران اور امریکا کے وفود اسلام آباد سے اپنے متعلقہ ممالک کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، تاہم دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مستقبل میں بھی بات چیت کے اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

پاکستانی حکام نے وفود کی روانگی پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان عالمی امن کے لیے اپنی سہولتکاری کا عمل مستقبل میں بھی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی بحری جہاز امریکی ناکہ بندی کے قریب آئے تو تباہ کر دیے جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو متنبہ کیا ہے کہ امریکی افواج ان تیز رفتار کشتیوں کو تباہ کر دیں گی جو امریکی بحری ناکہ بندی کے قریب آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران مذاکرات جاری رکھنے پر متفق، اگلی نشست جلد متوقع، تجزیہ کار

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا کہ اگر کوئی ایرانی جہاز امریکا کی ناکہ بندی کے قریب آیا تو اسے فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کی بحریہ کو پہلے ہی بڑی حد تک تباہ کیا جا چکا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی فوجی کارروائیاں ان ہی طریقوں سے کی جائیں گی جو منشیات کے مبینہ اسمگلروں کے خلاف سمندر میں استعمال کی جاتی ہیں اور انہوں نے وینزویلا کے قریب ہونے والی فضائی کارروائیوں کا حوالہ بھی دیا۔

آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی

رپورٹس کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز اور ایران کی بندرگاہوں پر جزوی ناکہ بندی نافذ کر دی ہے جو پیر کی صبح سے مؤثر ہو گئی۔ یہ آبنائے تیل اور دیگر اہم تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

ایران  کی انقلابی گارڈز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور غیر فوجی جہازوں کے لیے کھلی ہے تاہم فوجی جہازوں کو سخت جواب دیا جائے گا۔

پاکستان کی کاوشوں کے باعث ایران امریکا سیزفائر اب تک قائم ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین سیزفائر اب بھی قائم ہے اور یہ وطن عزیز نے یہ سب کچھ اللہ کی رضا کی خاطر کیا۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فراست اور حکمت سے امریکا ایران جنگ بند ہوئی اور فریقین نے عارضی سیزفائر پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے محض اللہ کی رضا کی خاطر انسانیت کو بچانے کے لیے جنگ بندی کے لیے انتھک کوششیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 47 سال بعد براہ راست بات چیت ہوئی۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین، عالمی وقار میں اضافہ: مفتی تقی عثمانی

ان کا کہنا تھا کہ دعوت قبول کرنے پر ایرانی صدر کے مشکور ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کے کوششیں کرنے پر وہ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کے بھی مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم میرا فرض ہے کہ قومی راز میرے سینے میں ہی رہیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے وفود نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور قیادت کی بھرپور تعریف کیْ

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا جاپانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، امریکا ایران مذاکرات کی پاکستانی سہولتکاری کی حمایت پر اظہار تشکر

 ایک اور نشست کا امکان ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد مجموعی ماحول بہتر اور مثبت ہے، جبکہ ایک اور نشست کا امکان بھی موجود ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے اس حوالے سے ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ممکن ہوا۔

 انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں اور آئندہ بھی پیشرفت کی توقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بعد کوئی منفی پیشرفت سامنے نہیں آئی، بلکہ صورتحال میں بہتری دیکھی جا رہی ہے، جس سے امید ہے کہ آئندہ نشست میں مزید مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں حالیہ کامیابیاں اہم ہیں، تاہم خطے کے فیصلے حالات اور ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پاکستان پر قائم رہے اور یہ سفارتی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں۔

آج سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہوگی، امریکی صدر ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں پیر سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی جہازوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، اور خطے میں صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔

آبنائے ہرمز میں افواج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، جاپان

جاپان نے بھی صورتحال پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے تاحال آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے اپنی دفاعی افواج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری منورو کیہارا کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان جامع مفاہمت اور کشیدگی میں کمی نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کشیدگی میں حقیقی کمی آئے اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کو محفوظ بنایا جائے۔

فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، چین کی اپیل

چین نے امریکی صدر کی جانب سے بحری ناکہ بندی کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن کا کہنا تھا کہ اس اہم عالمی بحری راستے کو محفوظ، مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے، اور چین اس حوالے سے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، برطانیہ نے حمایت سے انکار کردیا

برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹامر نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرے گا اور کسی بھی صورت ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھا جائے، اور اسی مقصد کے لیے حالیہ دنوں میں سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں کی ناکہ بندی کا عمل شروع کرے گی۔

امریکی صدر کی طرف اس اقدام کا اعلان ایران کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ، جسے انہوں نے دنیا کی بہترین فورس قرار دیا، اب ہر اس جہاز کو روکنے کا عمل شروع کرے گی جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے اس اہم عالمی گزرگاہ کو مکمل طور پر کھلا رکھنے میں رکاوٹ ڈالی ہے اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر کے عالمی سطح پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے، جسے انہوں نے ’عالمی بھتہ خوری‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے امریکا کے ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کسی بھی ایسے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا جس نے ایران کو راہداری فیس ادا کی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی بحریہ بین الاقوامی پانیوں میں ایسے جہازوں کو روکنے کے لیے کارروائی کرے گی۔

صدر کے مطابق امریکی افواج آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی ناکارہ بنانا شروع کر دیں گی۔ انہوں نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایرانی فورس نے امریکی یا پُر امن جہازوں پر حملہ کیا تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے، جبکہ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کے لیے اس گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنے کو بنیادی شرط قرار دیا تھا۔

اپنے ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اس بین الاقوامی بحری راستے کو کھولنے کے لیے اقدامات کرے۔

دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی بندرگاہوں میں داخل اور خارج ہونے والی بحری ٹریفک کی ناکہ بندی پیر کو 14:00 جی ایم ٹی(گرین وچ مین ٹائم) سے نافذ العمل ہوگی۔ تاہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر ممالک کے جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں ’دانستہ ناکامی‘ کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی فورسز نے امریکی بحریہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو انہیں ’سخت جواب‘ دیا جائے گا، جبکہ ایسے کسی بھی جہاز کو روکا جائے گا جو ایران کو راہداری فیس ادا کرتا پایا گیا۔

صورتحال میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان میں ہونے والے حالیہ امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ڈالر کی مضبوطی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے سونا ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گیا

صدر ٹرمپ کے مطابق اسلام آباد میں ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ تہران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران نے مذاکرات میں سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، جبکہ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو مذاکراتی عمل کی قیادت کر رہے تھے، نے واضح کیا کہ ایران دھمکیوں کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار