عالمی ریٹنگز ایجنسی فچ نے پاکستان کی غیر ملکی کرنسی کی ڈیفالٹ ریٹنگ ‘بی مائنس’ برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کے منظر نامے کو مستحکم قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ریٹنگB مائنس پر برقرار، فچ نے آؤٹ لک مستحکم قرار دیدیا
فچ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ میں استحکام کی بڑی وجوہات آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر میکرو اکنامک اقدامات ہیں۔ ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے، جس سے دیگر کثیر جہتی اور دوطرفہ مالیاتی اداروں سے تعاون حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔
معاشی ماہرین اور تاجر رہنماؤں کے مطابق ریٹنگ مستحکم ہونے سے عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور پاکستان کے لیے کم شرح سود پر فنانسنگ کا حصول ممکن ہوسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بینکوں کی نمو کے لیے بہتر مواقع ملنے کی توقع ہے، فچ ریٹنگز
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح نمایاں کمی کے ساتھ 7.9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جبکہ معاشی شرحِ نمو (جی ڈی پی) 3.1 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے فچ نے بتایا کہ رواں مالی سال میں 12.8 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کرنے ہوں گے جو جی ڈی پی کا 2.9 فیصد بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی معاشی پوزیشن منفی سے مستحکم ہوگئی، عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کا اعلامیہ
مزید برآں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر مالی سال کے اختتام تک 21.3 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.1 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔












