بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی قرض کی درجہ بندی کو B مائنس پر برقرار رکھتے ہوئے اس کا آؤٹ لک مستحکم قرار دیا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں ثالثی کے کردار سے پاکستان کو عملی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جو بیرونی دباؤ کو جزوی طور پر کم کر سکتے ہیں۔
پیر کو جاری بیان میں فچ ریٹنگز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ریٹنگ برقرار رکھنے کا فیصلہ مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کے اقدامات میں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بینکوں کی نمو کے لیے بہتر مواقع ملنے کی توقع ہے، فچ ریٹنگز
’۔۔۔جو مجموعی طور پر آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق ہیں اور ملک کی مالی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو سہارا دیتے ہیں۔‘
ادارے کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی، جبکہ جنگ بندی میں پاکستان کا کردار بھی کچھ حد تک بیرونی دباؤ کم کر سکتا ہے۔
🔴"فيتش" تثبت التصنيف الائتماني لباكستان عند "B-" مع نظرة مستقبلية مستقرة pic.twitter.com/yY9TvJUuco
— جريدة البورصة (@alborsanews) April 13, 2026
تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے، خاص طور پر اگر اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔
فچ ریٹنگز کے مطابق پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے، رواں برس مارچ میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹینڈڈ کریڈٹ فیسیلیٹی کے تیسرے جائزے اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسیلیٹی کے دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا، جس کی منظوری کی صورت میں 1.2 ارب ڈالر جاری ہونے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں:فچ ریٹنگ نے پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ نئے معاہدے کے لیے خطرات کی نشاندہی کر دی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان توانائی کے جھٹکوں کے لیے اب بھی حساس ہے کیونکہ ملک اپنی تقریباً 90 فیصد تیل کی ضروریات خلیجی ممالک سے پوری کرتا ہے اور اس کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت محدود ہے، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے مارچ کے آغاز سے دی جانے والی ایندھن سبسڈیز کو بجٹ کے دیگر شعبوں سے اخراجات منتقل کرکے پورا کیا گیا ہے، جبکہ قیمتوں میں اضافے اور اپریل سے ہدفی سبسڈی نظام کے نفاذ سے اخراجات میں کمی لائی گئی ہے۔ ادارے کے مطابق مالی خسارے پر اس کے اثرات محدود رہنے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیفالٹ کے خدشات ختم: فچ ریٹنگز نے پاکستان کی درجہ بندی بڑھا دی
فچ ریٹنگز نے پیشگوئی کی ہے کہ عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے کے باعث آئندہ مہینوں میں مہنگائی بڑھے گی اور مالی سال 2026 میں اوسط مہنگائی 7.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو مالی سال 2025 سے زیادہ مگر مالی سال 2024 کے 23.4 فیصد سے کافی کم ہوگی۔














