آسٹریلیا نے اپنی فوجی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو آرمی چیف مقرر کر دیا ہے جو ملک کی دفاعی قیادت میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے فوجی افسر شوہر اب ان کی ماتحتی میں کام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں پہلی بار خاتون آرمی چیف مقرر، جولائی میں عہدہ سنبھالیں گی
لیفٹننٹ جنرل سوزن کوائل جولائی میں باضابطہ طور پر آرمی چیف کا عہدہ سنبھالیں گی۔ وہ آسٹریلوی فوج کی کسی بھی سروس برانچ کی پہلی خاتون سربراہ بنیں گی۔
سوزن کوائل سنہ 1984 میں فوج میں شامل ہوئیں اور تقریباً چار دہائیوں پر مشتمل اپنے کیریئر میں متعدد اعلیٰ کمانڈ عہدوں پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
سرکاری بیان کے مطابق سوزن کوائل کی شادی کرنل مارک کوائل سے ہوئی جو فوج میں بطور انجینیئر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے 3 بچے ہیں جن میں جیسیکا، سوزی اور جیک شامل ہیں۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ ان کی دلچسپیوں میں تھیٹر دیکھنا، مطالعہ کرنا اور مختلف ممالک کا سفر کرنا شامل ہے۔
مزید پڑھیے: آسٹریلوی فوج کے سربراہ کا جی ایچ کیو کا دورہ، گارڈ آف آنر پیش
سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے حوالے سے مختلف دلچسپ اور مزاحیہ ردعمل بھی سامنے آئے۔ بعض صارفین نے اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا نظام جہاں شوہر اپنی ہی اہلیہ کے ماتحت کام کرے گا، ایک منفرد تجربہ ہوگا۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر مارک کوائل کو کوئی سرٹیفکیٹ یا ترقی دی جائے گی تو وہ بھی ان کی اہلیہ کے دستخط سے ہوگا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پیشہ ورانہ طور پر اس صورتحال کو سنبھال لیں گے۔
مزید پڑھیں: اب آپ بھی اسٹریلیا کی فوج میں بھرتی ہوسکتے ہیں
ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ اگر دنیا خواتین کی قیادت میں چلتی تو شاید جنگیں کم ہوتیں جبکہ ایک اور صارف نے سوزن کوائل کی صلاحیتوں پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سطح تک پہنچنے کے لیے وہ یقیناً انتہائی قابل اور توجہ مرکوز شخصیت ہوں گی۔














