دنیا بھر میں نوجوان سیاست کو بطور کیریئر اختیار کرنے سے پہلے نفرت انگیز تبصروں، ہراسانی اور بدتمیزی جیسے مسائل سے خوفزدہ نظر آتے ہیں اور خصوصاً سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے منفی رویوں انہیں اس حوالے سے کنفیوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سوشل میڈیا ٹرولنگ ہانیہ عامر کو بھی متاثر کرتی ہے؟
بی بی سی کے مطابق ایک برطانوی یوتھ پارلیمانی گروپ ٹنوالڈ یوتھ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ آن لائن بدسلوکی نوجوانوں کے سیاست کے بارے میں خیالات پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔
ٹنوالڈ یوتھ کمیٹی کے 15 سے 24 سال کے اراکین نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ملنے والی سخت تنقید اور نفرت انہیں سیاست میں آنے سے روک سکتی ہے۔
کمیٹی کی رکن 19 سالہ ریونا زمان نے کہا کہ سیاست میں آنے سے انہیں سب سے زیادہ نفرت انگیز تبصروں کا خدشہ ہے جبکہ ذاتی زندگی متاثر ہونے کا بھی ڈر ہے۔
ان کے مطابق سوشل میڈیا پر گمنامی کی وجہ سے لوگ آسانی سے اور زیادہ ذاتی نوعیت کی تنقید کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پر ’ٹرولنگ‘ کا اسلام میں کیا حکم ہے؟ علما کی اہم رائے سامنے آگئی
انہوں نے کہا کہ آمنے سامنے بات کرنے کے لیے ہمت درکار ہوتی ہے لیکن آن لائن بغیر کسی خوف کے کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔
خواتین اور اقلیتیں زیادہ متاثر
کمیٹی کے ارکان کے مطابق آن لائن بدسلوکی کا مسئلہ خاص طور پر خواتین کے لیے زیادہ شدید ہے۔
ریونا زمان کا کہنا تھا کہ خواتین سیاستدانوں کی کارکردگی کے بجائے ان کی ظاہری شکل پر زیادہ تنقید کی جاتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ظاہری شکل کا سیاست سے کیا تعلق ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ نسل اور پس منظر بھی اکثر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔ ریونا، جو برطانوی اور بنگلہ دیشی پس منظر رکھتی ہیں، نے کہا کہ کچھ لوگ اس بنیاد پر بھی منفی رویہ اختیار کرتے ہیں۔
معاشرتی رویوں کی عکاسی
18 سالہ طالبہ نرس الیکس کولی نے کہا کہ آن لائن تنقید صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کے رویے کی عکاسی کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: ندا یاسر ایک بار پھر ٹرولنگ کا شکار، نیو ایئر لُک پر صارفین برہم
انہوں نے کہا کہ آن لائن کسی کو برا بھلا کہنا آمنے سامنے کہنے سے کہیں زیادہ آسان ہے اور لوگ اس کے اثرات کا اندازہ نہیں کرتے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاست میں تنقید کا سامنا کرنا ایک حد تک ضروری ہوتا ہے اور اس کے لیے مضبوط اعصاب ہونا ضروری ہیں۔
سوشل میڈیا کا بدلتا کردار
17 سالہ طالبہ فریا کے مطابق سوشل میڈیا نے سیاست کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ لوگ آن لائن زیادہ سخت باتیں کہتے ہیں لیکن یہی پلیٹ فارمز سیاستدانوں کو عوام کے قریب بھی لے آتے ہیں اور ان کی جوابدہی بڑھاتے ہیں۔
حکومتی اقدامات کی ضرورت
16 سالہ رکن جاسپر نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے سوشل میڈیا پر موجودگی ضروری ہے لیکن آن لائن بدسلوکی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کو اس مسئلے کے حل کے لیے واضح قوانین اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں اس مسئلے کو تسلیم تو کرتی ہیں لیکن اس کی بنیادی وجوہات اور روک تھام پر کافی توجہ نہیں دی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیے: سوشل میڈیا پر صحافیوں کو دھمکیاں، پی ایف یو جے کی مذمت، کارروائی کا مطالبہ
ماہرین کے مطابق اگر آن لائن بدسلوکی پر قابو نہ پایا گیا تو یہ نوجوانوں کو سیاست سے دور کر سکتی ہے جو جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔














