گھڑیوں کی دنیا میں ایک چونکا دینے والی پیشرفت کے طور پر رولیکس نے واچز اینڈ ونڈرز 2006 کے دوران اپنی مشہور جی ایم ٹی ماسٹر 2 پیپسی ماڈل کو باضابطہ طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قندھاری بازار، نادر گھڑیوں کے شوقین افراد کا ٹھکانہ
سرخ اور نیلے رنگ کے بیزل والی یہ لیجنڈری گھڑی جو سنہ 1955 سے برانڈ کی پہچان سمجھی جاتی تھی اب کمپنی کے آفیشل کیٹلاگ سے ہٹا دی گئی ہے جس سے گزشتہ کئی مہینوں سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ دو رنگی سیرامک بیزل کی تیاری میں پیش آنے والی مشکلات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سرخ اور نیلے رنگ کا امتزاج حاصل کرنا دیگر ورژنز کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے جس کے باعث اسٹیل اور وائٹ گولڈ دونوں ماڈلز کو خاموشی سے بند کر دیا گیا۔
اگرچہ شائقین کو امید تھی کہ اس کی جگہ ’کوک‘ ماڈل متعارف کروایا جائے گا، لیکن رولیکس نے اپنی 100 ویں سالگرہ پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے واضح کیا کہ برانڈ اپنی مرضی سے فیصلے کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: قدیم وقت کی سیر کراتا لیویز افسر کا انوکھا شوق
دوسری جانب سیکنڈری مارکیٹ میں اس خبر کے فوری اثرات دیکھنے میں آئے ہیں جہاں موجودہ ماڈلز کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں کیونکہ کلیکٹرز کو احساس ہو گیا ہے کہ پیپسی فی الحال ختم ہو چکی ہے۔
مجاز ڈیلرز اب اُن صارفین کو یہ خبر دینے پر مجبور ہیں جو برسوں سے ویٹنگ لسٹ میں تھے کہ ان کی خوابوں کی گھڑی اب دستیاب نہیں رہی۔
ایک تجزیہ کار کے مطابق، سیراکروم دور میں پہلی بار سرخ بیزل غائب ہو گیا ہے جو تاریخ کی سب سے مشہور ٹریول گھڑی کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے۔
واضح رہے کہ رولیکس کی مشہور ’پیپسی‘ گھڑی کے حوالے سے اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا اس کا تعلق واقعی سافٹ ڈرنک کمپنی سے ہے؟ حقیقت میں ایسا کوئی معاہدہ یا آفیشل شراکت داری کبھی موجود نہیں رہی۔ پیپسی نام دراصل گھڑی کے سرخ اور نیلے رنگ کے بیزل کی وجہ سے پڑا جو سافٹ ڈرنک پیپسی کے لوگو سے مشابہت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شائقین نے اسے یہ عرفی نام دے دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رولیکس خود اپنی گھڑیوں کے لیے یہ نام استعمال نہیں کرتا بلکہ یہ مکمل طور پر کلیکٹرز اور گھڑیوں کے شوقین افراد کی دی ہوئی پہچان ہے۔ اصل میں یہ رنگ پائلٹس کی سہولت کے لیے متعارف کروائے گئے تھے تاکہ دن اور رات کے اوقات میں آسانی سے فرق کیا جا سکے لیکن وقت کے ساتھ یہ ڈیزائن پیپسی کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہو گیا۔
پیپسی کمپنی کی بنیاد دراصل سنہ 1898 میں رکھی گئی تھی جب پیپسی کولا پہلی بار متعارف ہوا اور وقت کے ساتھ یہ دنیا کا ایک معروف برانڈ بن گیا۔ دوسری جانب رولیکس نے سنہ 1950 کی دہائی میں اپنی جی ایم ٹی ماسٹر گھڑی پیش کی جس میں سرخ اور نیلے رنگ کا بیزل شامل تھا۔ اس وقت پیپسی پہلے ہی ایک پہچانا جانے والا نام تھا لیکن رولیکس نے یہ رنگ کسی برانڈ کی نقل کے طور پر نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت کے تحت منتخب کیے تھے۔
مزید پڑھیں: موت کا وقت بتانے والی قدرتی گھڑیاں: ریڈیوکاربن ڈیٹنگ کی حیران کن دنیا
حقیقت میں یہ رنگ پائلٹس کی سہولت کے لیے استعمال کیے گئے تھے تاکہ وہ دن اور رات کے اوقات میں آسانی سے فرق کر سکیں۔ بعد میں لوگوں نے اس سرخ اور نیلے امتزاج کو پیپسی کے لوگو سے ملتا جلتا دیکھا جس کی وجہ سے اس گھڑی کو غیر رسمی طور پر پیپسی کہا جانے لگا۔ یوں یہ ایک دلچسپ اتفاق تھا نہ کہ کسی قسم کی کاپی یا باضابطہ تعلق کے سبب یہ ہوا۔














