مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بنگلہ دیش کی واحد سرکاری آئل ریفائنری ایسٹرن ریفائنریپی ایل سی نے خام تیل کی قلت کے سبب اپنی پیداوار عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ حکام کے مطابق چٹاگانگ میں واقع اس ریفائنری نے اتوار کے روز اس وقت آپریشن روک دیا جب خام تیل کے ذخائر قابلِ استعمال حد سے نیچے آ گئے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں آئندہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
حکام کا کہنا ہے کہ مکمل بندش سے قبل بھی ریفائنری کی پیداوار نمایاں طور پر کم ہو چکی تھی، جو تقریباً 4,500 ٹن یومیہ سے گھٹ کر 3,500 ٹن رہ گئی تھی۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، میں رکاوٹیں ہیں، جس کے نتیجے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آنے والی تیل کی کھیپیں منسوخ ہو گئیں اور بنگلہ دیش کو 50 دن سے زائد عرصے سے نیا خام تیل نہیں مل سکا۔

ماہرین کے مطابق ریفائنری نے محدود مدت تک پائپ لائنوں میں موجود تقریباً 5,000 ٹن خام تیل اور ذخیرہ شدہ ’ڈیڈ اسٹاک‘ استعمال کر کے کام جاری رکھا، تاہم اس میں موجود آلودگیاں ریفائنری کے آلات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، جس کے باعث طویل استعمال ممکن نہیں تھا۔
دوسری جانب بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن نے اعلان کیا ہے کہ سعودی کمپنی سعودی آرمکو سے 100,000 ٹن خام تیل کی نئی کھیپ حاصل کر لی گئی ہے، جو اس ماہ فجیرہ سے روانہ ہو کر مئی کے اوائل میں بنگلہ دیش پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں فیول نگرانی سخت، پیٹرول پمپس پر ٹیگ آفیسرز تعینات کرنے کا فیصلہ
ادھر توانائی ڈویژن کے حکام نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ریفائنری کی بندش کے باوجود ملک میں ایندھن کی قلت نہیں ہوگی۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق بنگلہ دیش کے پاس ریفائن شدہ تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور بھارت، ملائیشیا اور سنگاپور سے درآمدات بھی جاری ہیں۔
حکام کے مطابق نئی کھیپ کی آمد کے بعد مئی کے آغاز میں ریفائنری کی سرگرمیاں بحال ہونے کی توقع ہے، جس سے ملک میں معمول کی پیداوار دوبارہ شروع ہو جائے گی۔













