بھارتی صوبے چھتیس گڑھ کے ضلع ساکتی میں واقع ایک پاور پلانٹ میں بوائلر پھٹنے سے کم از کم 9 مزدور ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلمانوں کے بعد عیسائیوں کے لیے بھی بھارت میں جگہ تنگ، وال اسٹریٹ جرنل نے مودی کے بھارت کا بدنما چہرہ عیاں کردیا
پولیس کے مطابق حادثہ منگل کے روز سنگھی ترائی پاور پلانٹ میں پیش آیا جبکہ کچھ افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، مقامی انتظامیہ اور پولیس موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ حکام کے مطابق لاپتا افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق دھماکا اس کے سنگھی ترائی پلانٹ کے ایک بوائلر یونٹ میں ہوا جس میں اس کے ذیلی کنٹریکٹر کے اہلکار بھی شامل تھے جو پلانٹ میں آپریشن اور مینٹیننس کے کام دیکھتے ہیں۔
مزید پڑھیے: بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغیوں کا حملہ، 10 سیکیورٹی اہلکار ہلاک
ترجمان نے کہا کہ کمپنی کی اولین ترجیح زخمیوں کو بہترین طبی سہولت فراہم کرنا ہے اور وہ متاثرہ افراد کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ کمپنی نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی بھی ظاہر کی ہے۔
واضح رہے کہ ساکتی ضلع میں واقع سنگھی ترائی پاور پلانٹ ایک کوئلے سے چلنے والا بجلی گھر ہے۔ اس پلانٹ میں توانائی کی پیداوار کے لیے بوائلر یونٹس کا استعمال کیا جاتا تھا جو کوئلے کو جلانے کے ذریعے پانی کو بھاپ میں تبدیل کرتے ہیں جس سے ٹربائنز چل کر بجلی پیدا ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت: ہندو قوم پرستوں کی جانب سے تبدیلی مذہب کے لیے دباؤ، عیسائی خوف کا شکار
یہ پلانٹ مقامی سطح پر توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم ہے اور اس میں مختلف تکنیکی عملوں کو چلانے کے لیے ذیلی کنٹریکٹرز اور ملازمین کی بڑی تعداد کام کر رہی ہے۔














