پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوست ملک چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں اگرچہ کچھ پیشرفت سامنے آئی ہے لیکن تاحال کوئی حتمی اور واضح کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان افغان کشیدگی، ترکیہ کے وفد کی پاکستان آمد کا کیا ایجنڈا ہے؟
مذاکرات میں سب سے اہم نکتہ افغانستان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف مؤثر اور واضح کارروائی کی یقین دہانی کا تھا جس پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ اس معاملے پر فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے تاہم بنیادی اختلافات برقرار رہنے کے باعث صورتحال ابھی غیر یقینی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم مذاکرات گزشتہ ہفتے چین کی ثالثی میں ہوئے اور چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ان مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ فریقین کے درمیان بات چیت میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے واقعات اور سرحدی جھڑپوں کے بعد اکتوبر 2025 سے دونوں ممالک کے درمیان تمام اہم گزرگاہیں اور سرحدی راستے بند ہیں۔
پاک افغان مذاکرات میں رکاوٹ کی وجہ کیا ہے؟
پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور سرحد پار حملوں کے بعد پاکستان نے افغان حکام کے سامنے شواہد پیش کیے ہیں۔ ان شواہد میں یہ مؤقف شامل ہے کہ پاکستان میں ہونے والی بعض دہشتگرد کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کے اندر موجود ہے اور وہاں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اس کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی اور طالبان رجیم کی جانب سے ان دہشتگردوں کی پشت پناہی بھی کی جا رہی ہے۔
افغان امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی ختم کرے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان بارہا اس خدشے کا اظہار کرتا رہا ہے کہ سرحد پار حملوں میں ملوث عناصر کو افغانستان میں محفوظ ٹھکانے حاصل ہیں جنہیں ختم کرنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیے: افغانستان میں پھیلتے دہشتگردی کے مرکز کے خلاف پاکستان مضبوط دیوار
تاہم مبصرین کے مطابق افغان حکومت اس مؤقف پر مکمل طور پر آمادہ نظر نہیں آتی جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور اعتماد کے فقدان کی صورتحال برقرار ہے۔
فدا عدیل پشاور کے سینیئر صحافی ہیں اور افغان امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق چین میں حالیہ مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میری معلومات کے مطابق دوسرا دور بھی ہوگا جس میں دوست ممالک کا اہم کردار ہوگا۔
فدا عدیل کے مطابق پاک افغان مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ صرف اور صرف کالعدم ٹی ٹی پی کا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی عبوری حکومت سے اس گروہ کے خلاف منظم اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے تاہم افغان حکومت کی جانب سے اس معاملے پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ ٹی ٹی پی کی پشت پناہی ختم کی جائے تاکہ ملک میں دہشتگردی کے واقعات پر قابو پایا جا سکے اور سرحدی سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ چین اور ترکیہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور افغان طالبان کو بھی اپنی مشکلات کا اندازہ ہے۔
’ٹی ٹی پی کے معاملے پر افغان طالبان تقسیم ہیں‘
فدا عدیل کے مطابق ٹی ٹی پی کی وجہ سے اس وقت افغان طالبان کی عبوری حکومت مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے سرگرم کالعدم ٹی ٹی پی کے معاملے پر افغان طالبان بھی تقسیم ہیں۔
ان کے مطابق افغان حلقوں میں اس معاملے پر دو مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک گروپ کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی ان کی ’نظریاتی اور جہادی اتحادی‘ ہے جبکہ دوسرے گروپ کا مؤقف یہ ہے کہ ایک متنازع تنظیم کی وجہ سے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنے چاہییں اور علاقائی استحکام اور سفارتی تعلقات کو ترجیح دینی چاہیے۔
مزید پڑھیں: عیدالفطر کا احترام: حکومت پاکستان کا افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن عارضی طور پر روکنے کا اعلان
افغان اور قبائلی امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی رسول داوڑ کا بھی کسی حد تک فدا عدیل کے مؤقف سے اتفاق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی موجودگی اور سرگرمیوں کے باعث افغانستان کے اندر ہونے والی کارروائیوں پر افغان طالبان کو بھی تشویش لاحق ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ ٹی ٹی پی کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغان طالبان اب کسی حد تک ایسی یقین دہانیاں دینے کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں جو پاکستان کی جانب سے مطلوب ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں پر کارروائیوں کے بعد افغان رجیم کو اپنی دفاعی کمزوریوں کا بخوبی اندازہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کے پاس مؤثر فضائی دفاعی نظام موجود نہیں جس کی وجہ سے وہ براہ راست عسکری مقابلے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کو آگے بڑھانے کا یہ ایک موزوں موقع ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے کردار پر عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور ایسے ماحول میں افغان رجیم بھی بات چیت اور بعض شرائط تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر سکتی ہے۔
فدا عدیل کے مطابق ایران امریکا ثالثی کے اثرات افغانستان پر بھی پڑے ہیں اور افغان رجیم کو پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے۔
کیا برف پگھل رہی ہے؟
چین میں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ بات چیت میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور بھی منعقد ہونے کا امکان ہے جو دوست ممالک کی ثالثی میں ہوگا اور اس میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے عہدیداروں کی شرکت متوقع ہے۔
فدا عدیل کے مطابق چین کی جانب سے ملنے والے اشاروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کئی معاملات کافی حد تک حل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت کے بعد افغانستان اب بعض امور پر تحریری یقین دہانی دینے کے لیے بھی آمادگی ظاہر کر رہا ہے جو مذاکرات میں اہم پیشرفت تصور کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے واضح طور پر افغانستان کو آگاہ کیا ہے کہ اب دہشتگردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر کسی بھی حملے یا سرگرمی کے تانے بانے افغانستان سے ملے تو کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاک افغان صورتِ حال کب سے کشیدہ ہے؟
پاک افغان تعلقات گزشتہ سال سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں جبکہ اکتوبر 2025 سے دونوں ممالک کے درمیان تمام سرحدی گزرگاہیں بند ہیں۔ اس دوران متعدد مرتبہ مذاکرات کے ادوار بھی ہوئے تاہم کوئی ٹھوس اور دیرپا نتیجہ سامنے نہیں آ سکا اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملے بھی ہوئے۔
اس کے باوجود رمضان المبارک اور عید کے موقعے پر دونوں ممالک کے درمیان عارضی فائر بندی بھی دیکھنے میں آئی جسے سفارتی حلقے کشیدگی میں وقتی کمی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں پاکستان کے مؤقف کی تائید کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں متعدد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں اور ٹی ٹی پی کی بھی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان کے ساتھ جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں، پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے: علامہ طاہر اشرفی
رپورٹس کے مطابق افغانستان کے کنڑ، خوست، ننگرہار اور دیگر سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں سے وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔













