خیرپور میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر ’کاری‘ قرار دے کر پولیس کی موجودگی میں قتل کر دیا گیا، واقعے نے نہ صرف علاقے میں خوف و غصے کی لہر دوڑا دی بلکہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
خیرپور کے قریب بھٹو چانڈیو گاؤں میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر ’کاروکاری‘ کے الزام میں پولیس اور مقامی افراد کے سامنے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر ٹنڈو مستی تھانے میں ریاست کی مدعیت میں درج کی گئی، جس میں انکشاف ہوا کہ 10 اپریل کی علی الصبح پولیس اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ انہیں فیض واہ کے قریب ایک لڑکی پر مبینہ ناجائز تعلقات کے الزام میں تشدد کی اطلاع ملی۔
اطلاع ملنے پر پولیس ٹیم فوری طور پر بھٹو چانڈیو پہنچی، جہاں ایک دکان کے قریب موبائل فون کی روشنی میں 4 مسلح افراد اور ایک لڑکی موجود تھے۔ ملزمان کی شناخت قیصر چانڈیو، پہلوان چانڈیو، غلام عباس عرف باجو چانڈیو اور ولی محمد چانڈیو کے ناموں سے ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: غیرت کے نام پر قتل، ایف آئی آر میں کیا لکھا گیا؟
ایف آئی آر کے مطابق ولی محمد نے لڑکی ، جس کی شناخت خالدہ عرف روبینہ زوجہ رشید چانڈیو کے طور پر ہوئی، کو ’کاری‘ قرار دیتے ہوئے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ پولیس کی جانب سے فائرنگ سے روکنے کے باوجود ملزمان نے مبینہ طور پر تقریباً ساڑھے 3 بجے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی، جبکہ ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی عمر تقریباً 19 سال تھی اور اسے سینے میں گولی لگی، جس سے وہ فوری طور پر دم توڑ گئی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال خیرپور منتقل کیا گیا، جبکہ جائے وقوعہ سے پستول کے خول بھی برآمد کر کے تحویل میں لے لیے گئے۔
واقعے کا مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 311 اور 114 کے تحت درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے، جن میں سے دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ادھر سکھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مانو مل کھاگیجا نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے خیرپور کے ایس ایس پی کو 48 گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایس ایس پی خیرپور امیر سعود احمد مگسی نے واقعے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی ملزمان سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے کیا عورت صرف غیرت کے نام پر قتل ہونے کے لیے پیدا ہوتی ہے؟
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ پر موجود 18 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جن پر خوف و ہراس پھیلانے اور ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلانے کا الزام ہے۔
دوسری جانب مقتولہ کے والدین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بیٹی ’کاری‘ نہیں تھی بلکہ اسے پہلے اغوا کیا گیا تھا۔ انہوں نے مقامی پولیس پر ایف آئی آر درج کرنے کے لیے رشوت طلب کرنے کا الزام بھی عائد کیا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔














