ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی بڑھتی قلت اور سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات نے پاکستان کے لیے ایک نئے قومی سلامتی بحران کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق گلیشیئر پگھلنے، سیلاب، خشک سالی اور غیر یقینی موسمی حالات کے باعث پاکستان پہلے ہی شدید خطرات سے دوچار ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے کی کوششیں صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: عدالت کا فیصلہ پاکستان کے حق میں، بھارت کے یکطرفہ اقدامات مسترد
پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، بے ترتیب بارشوں، خشک سالی اور پانی کی کمی نے دریائے سندھ کے نظام کو پاکستان کی خوراک، توانائی، معیشت اور انسانی سلامتی کے لیے ناگزیر بنا دیا ہے۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر غیر فعال کرنے کی کوشش نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھی جا رہی ہے بلکہ اس سے پاکستان کے لیے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال بھی بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی نے پانی کے مسئلے کو صرف ترقیاتی معاملہ نہیں رہنے دیا بلکہ یہ قومی سلامتی کا بنیادی چیلنج بن چکا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے زیریں کنارے والے ملک کے لیے جو سرحد پار دریاؤں کے مستقل بہاؤ پر انحصار کرتا ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات پہلے سے ماحولیاتی دباؤ کا شکار خطے میں مزید بے چینی پیدا کر رہے ہیں اور جنوبی ایشیا میں پانی کے تحفظ کے نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دریائے سندھ کے نظام میں گلیشیئرز کے پگھلنے، بارشوں کے غیر متوازن پیٹرن اور پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال پہلے ہی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے معاہدے کے فریم ورک میں مداخلت پاکستان کے لیے خطرات میں مزید اضافہ کر رہی ہے کیونکہ پاکستان کی زرعی اور معاشی بقا دریاؤں کے مستقل بہاؤ سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: اقوامِ متحدہ کے سوالات پر بھارت کی طویل خاموشی پر عالمی اور قانونی حلقوں کی تشویش
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبی سلامتی دراصل اس کی قومی سلامتی سے براہ راست وابستہ ہے کیونکہ دریائے سندھ کا نظام زرعی پیداوار، پن بجلی، صنعت، ماحولیات اور لاکھوں افراد کو پینے کے پانی کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس لیے بھارت کے اقدامات کو صرف قانونی خلاف ورزی نہیں بلکہ دباؤ پر مبنی آبی سیاست قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنا جنوبی ایشیا میں پانی کے تنازعات کو روکنے والے چند مؤثر ادارہ جاتی نظاموں میں سے ایک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ایسے وقت میں جب ماحولیاتی دباؤ وسائل پر مقابلہ بڑھا رہا ہے، بھارت کی جانب سے معاہدے کی ذمہ داریوں سے انکار خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا سکتا ہے، خصوصاً 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان۔

پاکستان کی معیشت بڑی حد تک زراعت پر انحصار کرتی ہے اور زرعی نظام دریائے سندھ کے مستقل پانی پر قائم ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی، شدید گرمی اور پانی کی کمی پہلے ہی زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ بھارت کے اقدامات فصلوں کے نظام اور غذائی تحفظ کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک ’خطرات بڑھانے والا عنصر‘ بن چکی ہے جو پہلے سے موجود معاشی، انتظامی اور سکیورٹی مسائل کو مزید سنگین بناتی ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر کرنے کی کوششیں اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں اور ماحولیاتی طور پر حساس خطے میں آبی عدم استحکام میں اضافہ کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟
ماہرین نے خبردار کیا کہ بھارت کا طرز عمل بین الاقوامی آبی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے کیونکہ اس سے یہ اصول کمزور ہوتا ہے کہ سرحد پار دریاؤں کا انتظام قانونی معاہدوں کے تحت ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی دباؤ کے ذریعے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پن بجلی منصوبے، ڈیم، نہری نظام اور شہری پانی کی فراہمی کا ڈھانچہ قومی معیشت اور سماجی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایسے میں اگر سرحد پار پانی کے بہاؤ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو پہلے سے دباؤ کا شکار انفراسٹرکچر مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پانی کے بہتر انتظام، آفات سے نمٹنے کی تیاری، زیرزمین پانی کے تحفظ، جدید زرعی نظام اور ماحولیاتی مزاحم منصوبہ بندی پر طویل المدتی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ تاہم بھارت کے اقدامات اس حکمت عملی میں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اس ابھرتے ہوئے ماحولیاتی اور آبی سکیورٹی بحران کے مقابلے کے لیے سفارتی سطح پر سندھ طاس معاہدے کے دفاع، جدید آبی نظام، ماحولیاتی مزاحم انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عالمی ماحولیاتی فنڈز کے حصول پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بڑھتے خطرات
ماہرین نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے اقدامات کو صرف دوطرفہ تنازع نہ سمجھے بلکہ اسے علاقائی امن، ماحولیاتی تحفظ، بین الاقوامی قانون اور سرحد پار پانی کے تعاون کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھے، کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات کے دوران ایسے اقدامات پورے خطے کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔














