سائنسدان اب خلا سے دیکھیں گے زمین کی مسکراہٹ، چین اور یورپی خلائی ایجنسی کا تاریخی بریک تھرو

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسی اور خلائی امور پر گہری نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ ایک بڑی اور تاریخی پیش رفت ہے۔ چین اور یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کے مشترکہ تعاون سے تیار کردہ خصوصی سیٹلائٹ ’اسمائل‘ کو فرانسیسی گیانا کے کورو خلائی مرکز سے یورپی راکٹ ’ویگا سی‘ کے ذریعے کامیابی سے خلا میں روانہ کردیا گیا ہے۔

چین اور یورپی خلائی ایجنسی کے درمیان خلائی سائنس کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا مکمل اور گہرا مشن لیول تعاون ہے، جس کی کامیابی کو دونوں خطوں کے خلائی روابط میں ایک بڑی بریک تھرو قرار دیا جارہا ہے۔ سیٹلائٹ نے خلا میں پہنچ کر اپنے سولر پینل کامیابی سے کھول دیے ہیں اور اس نے اپنے مقررہ مدار میں کام شروع کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نایاب ترین نظارہ: ’افراتفری کا دیوتا‘ نامی سیارچہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بنا دوربین کب دیکھا جاسکے گا؟

اس سیٹلائٹ کا نام ’اسمائل‘ (سولر ونڈ میگنیٹو اسفیئر آئرونوسفیئر لنک ایکسپلورر) ایک خوبصورت سائنسی استعارے پر مبنی ہے۔ سیٹلائٹ پر موجود ایکس رے امیجر کے ذریعے جب زمین کی حفاظتی مقناطیسی تہہ (میگنیٹو اسفیئر) اور سورج کی ہواؤں کے ٹکراؤ کو دیکھا جائے گا، تو وہ منظر خلا میں ایک ’مسکراتی ہوئی قوس‘ کی طرح دکھائی دے گا، اسی لیے اسے کائناتی مسکراہٹ کا نام دیا گیا ہے۔

سائنسی ماہرین کے مطابق یہ مشن پہلی بار ایکس رے امیجنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سورج کی ہواؤں اور زمین کے مقناطیسی میدان کے باہمی ملاپ کا پینورامک نظارہ پیش کرے گا۔ اس سے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے اور تجزیہ کرنے میں مدد ملے گی کہ سورج کا پورا نظام زمین کے ماحول پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اور زمین کا مقناطیسی میدان کس طرح ہمیں نقصان دہ شمسی ہواؤں سے بچاتا ہے۔

اس منصوبے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماضی کے برعکس، جہاں چین یورپی ٹیکنالوجی سے سیکھتا تھا، اس بار سیٹلائٹ کے مین سسٹم ڈیزائن، پلیٹ فارم کی تیاری اور فائنل ٹیسٹنگ کی قیادت مکمل طور پر چینی اکیڈمی آف سائنسز  نے کی ہے۔ سیٹلائٹ کے دیگر آلات کی تیاری میں برطانیہ کی لیسٹر یونیورسٹی اور کینیڈا کے پیچھے ہٹنے کے بعد چینی اداروں نے ای ایس اے کے ساتھ مل کر کام مکمل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: زمین پر آخری مکمل سورج گرہن، سائنسدانوں نے کائناتی نظارے کے خاتمے کے وقت کا تعین کردیا

سیٹلائٹ کو لانچنگ مدار سے اس کے اصل مشن مدار تک پہنچانے کے لیے چین کا پروپلشن سسٹم اور ٹریکنگ ٹیکنالوجی انتہائی اہم ثابت ہوئی، جس کے لیے انجن کو 13 سے زائد بار چلایا گیا۔ خلا میں اس کے کنٹرول اور مانیٹرنگ کے لیے چین اور یورپ کے گراؤنڈ اسٹیشن نیٹ ورک مل کر کام کر رہے ہیں، جس کے لیے دونوں اطراف کے خلائی مراکز کے درمیان ڈیٹا لنکس قائم کیے گئے ہیں۔

مشن کے مینیجرز کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی دونوں ممالک کے گہرے باہمی اعتماد کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ایسے مزید منصوبوں پر کام کیا جائے گا، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال بھی شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ چین اب جنوب مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک کو بھی زمین اور سمندروں کی نگرانی کے لیے سول اسپیس ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کام کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف سے چینی وفد کی ملاقات، پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

پانی کا بحران اور سندھ طاس معاہدہ: بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے پاکستان کو سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا

پاک چین دوستی کے 75 سال: پاکستان 75 روپے کا خصوصی سکہ جاری کرے گا

بنگلہ دیش میں خسرہ کی ویکسین کی قلت، یونیسیف کے انتباہ کو نگران حکومت نے نظرانداز کیا

اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا شاہ رحیم آغا خان پہلے دورے پر پاکستان پہنچ گئے، کہاں کہاں جائیں گے؟

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا