دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لوگ چیٹ بوٹس پر اندھا اعتماد نہ کریں، خاص طور پر طبی، قانونی اور مالی معاملات میں ان سے رہنمائی لینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکا میں قانونی ماہرین اپنے مؤکلین کو واضح طور پر ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ AI چیٹ بوٹس کو قابلِ اعتماد رازدار نہ سمجھیں، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں آزادی یا قانونی ذمہ داری داؤ پر لگی ہو۔
مزید پڑھیں:اوپن اے آئی کا نیا ویب براؤزر گوگل کروم کے لیے چیلنج کیوں؟
یہ خدشات اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے جب نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے ایک دیوالیہ مالیاتی کمپنی کے سابق سی ای او کے کیس میں فیصلہ دیا کہ وہ اپنی AI چیٹس کو استغاثہ سے خفیہ نہیں رکھ سکتا۔ ان پر سیکیورٹیز فراڈ کے الزامات ہیں۔
اس فیصلے کے بعد وکلا نے خبردار کیا ہے کہ ChatGPT اور Claude جیسے چیٹ بوٹس کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو فوجداری یا دیوانی مقدمات میں ثبوت کے طور پر طلب کیا جا سکتا ہے۔
نیویارک کی معروف لا فرم کے وکیل الیگزینڈریا گٹیریز سویٹ کے مطابق، مؤکلین کو احتیاط برتنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ AI چیٹ بوٹس کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق، عام طور پر وکیل اور مؤکل کے درمیان ہونے والی گفتگو قانوناً خفیہ ہوتی ہے، لیکن AI چیٹ بوٹس اس زمرے میں نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بڑی امریکی لا فرمز نے اپنے مؤکلین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حساس معلومات چیٹ بوٹس کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں۔
مزید یہ کہ اگر کوئی شخص اپنے وکیل کی فراہم کردہ معلومات کسی تیسرے فریق، بشمول AI پلیٹ فارم، کے ساتھ شیئر کرتا ہے تو ’اٹارنی کلائنٹ پرولیج‘ یعنی قانونی رازداری ختم ہو سکتی ہے۔
عدالتیں اس وقت ایسے کیسز سے بھی نمٹ رہی ہیں جہاں وکلا یا خود مقدمہ لڑنے والے افراد نے AI کے ذریعے تیار کردہ غلط یا فرضی قانونی حوالہ جات عدالت میں پیش کر دیے۔
ایک حالیہ عدالتی فیصلے میں جج نے یہ بھی واضح کیا کہ AI صارف اور چیٹ بوٹ کے درمیان کوئی وکیل مؤکل تعلق موجود نہیں ہوتا، اس لیے ایسی گفتگو کو قانونی تحفظ حاصل نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ChatGPT اور دیگر AI ٹولز دراصل محض سافٹ ویئر ہیں، انسان نہیں، اس لیے ان پر مکمل انحصار کرنا دانشمندی نہیں۔
دوسری جانب AI کمپنیوں کی پرائیویسی پالیسیز کے مطابق صارفین کا ڈیٹا بعض اوقات تیسرے فریق کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہ پلیٹ فارمز خود بھی صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ کسی بھی اہم قانونی معاملے میں مستند ماہرین سے رجوع کیا جائے۔














