بھارت کی آئل ریفائنریاں ایرانی تیل کی ادائیگیاں چینی کرنسی یوآن میں کر رہی ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق یہ لین دین ایک امریکی پابندی میں ایک عارضی چھوٹ کے بعد شروع ہوا، جس کے تحت نئی دہلی کو محدود مدت کے لیے ایران سے خام تیل خریدنے کی اجازت دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت نے 20 مارچ کو ایک ماہ کی رعایت دی تھی، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ ایران پر امریکی پابندیوں کے باعث تیل کی ادائیگیوں کا معاملہ پیچیدہ سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران جنگ بندی پاکستانی سفارتی کامیابی، بھارت کی اسٹریٹجک ناکامی ہے، ششی تھرور کا اعتراف
انڈین آئل کارپوریشن نے اپریل میں ایران سے 20 لاکھ بیرل خام تیل خریدا، جو 7 برس بعد ایرانی تیل کی پہلی خریداری قرار دی جا رہی ہے۔ اس سودے کی مالیت تقریباً 20 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ریلائنس انڈسٹریز کے لیے ایرانی تیل لے کر آنے والے 4 جہازوں کو بھی بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان دونوں سودوں کی ادائیگی آئی سی آئی سی آئی بینک کے ذریعے کی جا رہی ہے، جو اپنی شنگھائی برانچ سے یوآن میں رقوم منتقل کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے بعد ایرانی جنگ نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے دوہری مشکل کھڑی کردی
بھارتی ریفائنریاں اس سے قبل بھی روس سے تیل خریدنے کے لیے یوآن استعمال کر چکی ہیں۔ تاجروں کے مطابق یوآن میں ادائیگی اس لیے آسان سمجھی جاتی ہے کیونکہ اسے ڈالر میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
یاد رہے کہ 2019 سے قبل ایرانی خام تیل بھارت کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 11.5 فیصد حصہ تھا، تاہم امریکی پابندیوں کے سخت ہونے کے بعد خریداری روک دی گئی تھی۔ بھارت اس وقت دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کنندہ اور صارف ملک ہے، جو اپنی تقریباً 90 فیصد ضروریات بیرون ملک سے پوری کرتا ہے۔














