سپریم کورٹ نے 11 سالہ اریب اعجاز کے بہیمانہ قتل کیس میں مجرم ذوالفقار خان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے بریت کی اپیل مسترد کر دی، جبکہ سماعت کے دوران عدالت نے شواہد کو مضبوط اور ناقابلِ تردید قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: گجرات قتل کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل
سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ مقتول کمسن بچہ تھا، اس کے ساتھ نہ کوئی دشمنی تھی بلکہ زیادتی کے شواہد بھی موجود ہیں۔ عدالت کے مطابق بچے کی لاش ایک زیرِ تعمیر جگہ سے برآمد ہوئی جس پر تشدد کے واضح نشانات تھے۔
عدالت نے مزید کہا کہ کیس میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی این اے فارنزک رپورٹ جیسے اہم شواہد بھی موجود ہیں جو مجرم کے خلاف جاتے ہیں۔ دورانِ سماعت پوسٹمارٹم رپورٹ پر بھی تفصیلی بحث ہوئی، جس میں جسٹس ملک شہزاد نے وضاحت کی کہ موت کے وقت کا تعین مختلف طبی عوامل جیسے جسم کا درجہ حرارت، خون کا جمنا اور دیگر علامات سے کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے بچوں کو نوکریاں دینے کی پالیسی پر فیصلہ محفوظ کرلیا
مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پوسٹمارٹم رپورٹ میں موت کی واضح وجہ درج نہیں، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شواہد کا مجموعی جائزہ مجرم کے خلاف ہے۔ سماعت کے دوران عدالت اور وکیل کے درمیان بعض نکات پر دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔














