طاقت اور اعتماد کے درمیان ایران کا جاندار موقف

جمعرات 16 اپریل 2026
author image

محمد اقبال

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے 21 گھنٹے طویل مذاکرات محض ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی مکالمہ ہی نہیں تھے، بلکہ یہ دراصل طاقت، خودمختاری، خوف اور اعتماد کے درمیان ایک گہری انسانی کشمکش کی علامت بھی تھے۔

بظاہر یہ ایک سیاسی عمل تھا، مگر یہ اپنے باطن میں ایک سوال ضرور رکھتا ہے کہ کیا طاقت کے توازن پر قائم دنیا کبھی حقیقی امن کو چھو سکتی ہے؟

مذاکرات کے بعد سوال یہ نہیں رہا کہ کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کے بل پر قائم دنیا میں انصاف اور برابری کی کوئی حقیقی گنجائش باقی ہے؟

ان مذاکرات سے جڑی عالمی امیدیں دراصل اس اجتماعی خواہش کی عکاس تھیں کہ شاید انسان اپنے ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھ چکا ہے۔ مگر جب ایران ’جنگی ہرجانے‘ اور ’جوہری حقوق‘ کو اپنی سرخ لکیر قرار دیتا ہے اور امریکا اس کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے، مکمل غیر مسلح ہونے اور علاقائی اثر و رسوخ کے خاتمے پر اصرار کرتا ہے، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ تنازع صرف پالیسی کا نہیں، بلکہ وجودی تصورات کا بھی ہے۔

 ایک طرف وہ قوم ہے جو اپنی خودمختاری اور بقا کو مزاحمت میں دیکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ طاقت ہے جو اپنی برتری کو عالمی نظم کا ضامن تصور کرتی نظر آ رہی ہے۔

پاکستان کی سرزمین پر ان دونوں قوتوں کا آمنے سامنے بیٹھنا ایک دلچسپ علامت بن کر سامنے آیا۔ پاکستان یہاں محض میزبان نہیں، بلکہ ایک خاموش جاندار ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، جس کے مساویانہ طرز ثالث نے یہ ثابت کیا کہ شاید یہی سفارتکاری کا حسن ہے۔

پاکستان کی ادھورے امکانات میں بھرپور کوشش نے اس امید کو زندہ رکھا  کہ مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا ضرور مگر ختم نہیں ہوا، یہی وجہ ہے کہ ایران کے اعلیٰ حکام سمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج مذاکرات کے دوسرے دور کی تصدیق کر رہے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان ’ اسلام آباد ٹاکس‘ میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کردار بھی محض انتظامی نہیں، بلکہ غیر معمولی رہا  ہے۔ ایک طرف طاقت کا نظم، دوسری طرف مکالمے کی زبان، یہ دونوں مل کر اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ امن صرف الفاظ سے نہیں بلکہ تحفظ کے احساس سے بھی جنم لیتا ہے۔

یہ مذاکرات اس لیے بھی اہم رہے کہ ان میں ’فریم ورک‘ کی عدم موجودگی نے ایک تلخ سچ کو بے نقاب کیا کہ اعتماد کوئی معاہدہ نہیں جسے کاغذ پر لکھ کر نافذ کیا جا سکے، بلکہ یہ ایک تدریجی احساس ہے جو وقت، تجربے اور خلوص سے پیدا ہوتا ہے۔

 جب محمد باقر قالیباف یہ کہتے ہیں کہ مخالف فریق ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا، تو دراصل وہ ایک ایسی کمی کی نشاندہی کر رہے  ہیں جو کسی بھی سفارتی عمل کی بنیاد ہوتی ہے۔ محمد باقر قالیباف کا بیان یقیناً  کسی بھی معاہدے کو بے معنی بنا سکتا ہے، کیونکہ اعتماد ایک غیر مرئی قوت ہے، مگر اس کے بغیر کوئی بھی تحریری معاہدہ محض الفاظ کا مجموعہ رہ جاتا ہے۔

ایران کا مؤقف دراصل اس اصول پر مبنی ہے کہ خودمختاری ناقابلِ تقسیم ہے، یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ حق ہے۔ اس کے برعکس امریکا کا نقطۂ نظر عالمی نظم کو اپنی شرائط پر قائم رکھنے کی کوشش ہے، جہاں سلامتی کا مفہوم اس کی اپنی تعریف سے جڑا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی ایک کی سلامتی دوسرے کی آزادی کو محدود کیے بغیر ممکن ہے؟

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف ’فتح‘  کا دعویٰ اور پھر مذاکرات کے دوسرے دور کی جانب اشارہ ہمیں اس تضاد کی طرف لے جاتا ہے، جہاں طاقت اور سچائی ایک دوسرے سے متصادم ہو جاتے ہیں۔

کیا فتح واقعی وہی ہے جو طاقتور بیان کرے، یا وہ جو اجتماعی شعور میں تسلیم کی جائے ؟ ٹرمپ کی حکمت عملی، جس میں حریف کو کمزور دکھانا ضروری سمجھا جاتا ہے، دراصل اس خوف کی عکاسی کرتی ہے جو بہت کچھ کھو دینے کے خوف سے محض طاقت کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔ اگر فتح کا اعلان اعتماد پیدا کرنے کے بجائے فاصلے بڑھائے، تو کیا اسے واقعی فتح کہا جا سکتا ہے؟

آبنائے ہرمز کی بندش اس پورے منظرنامے کو ایک اور زاویہ دیتی ہے۔ یہ محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ یہ عالمی معیشت کی وہ نبض ہے، جس کے بند ہو جانے سے دنیا کی معیشت، سیاست اور جغرافیے کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ اس مقام پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان نے ترقی کے نام پر خود کو ایک ایسے جال میں پھنسا لیا ہے جہاں ایک خطے کی کشیدگی پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات دراصل وقت کے اس پیمانے کو بھی چیلنج کرتے ہیں جس میں ہم فوری نتائج ملنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ شاید کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے گھنٹوں نہیں بلکہ سالوں تک انتظار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات میں کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کے بعد جاری بیان میں’ماضی کی جنگوں‘ کا حوالہ اسی تسلسل کی یاد دہانی ہے کہ تاریخ کبھی ختم نہیں ہوتی، بلکہ حال میں سانس لیتی رہتی ہے۔

عالمی سطح پر امریکا، ایران مذاکرات پر جو ردعمل سامنے آیا، وہ بھی انسانی فکر کی ایک جھلک پیش کرتا ہے، جس میں فرانس، آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی جیسی یورپی طاقتوں کی جانب سے جنگ بندی پر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا آج بھی امن کو ایک مشترکہ قدر کے طور پر دیکھتی ہے۔ مگر یہ قدر تب تک حقیقت نہیں بن سکتی جب تک اسے طاقت کی سیاست پر فوقیت نہ دی جائے۔

یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ ایران کی مزاحمت نے امریکا کے عالمی طاقت ہونے کے تصور کو بھی چیلنج کیا ہے۔ یہ چیلنج ہمیں اس فلسفیانہ حقیقت کی جانب لے جاتا ہے کہ کیا طاقت ہمیشہ غالب رہتی ہے؟، یا کبھی کبھی استقامت بھی اسے جھکا دیتی ہے؟ شاید تاریخ کا جواب یہی ہے کہ طاقت وقتی ہوتی ہے، مگر اصول اور استقامت دیرپا ہوتے ہیں۔

یہ مذاکرات انسان کی اس دائمی جدوجہد کی بھی  عکاسی کرتے ہیں جس میں وہ طاقت اور اخلاقیات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی، بلکہ ہر دور میں نئے انداز سے سامنے آتی ہے۔

پاکستان کی میزبانی اس سارے منظرنامے میں ایک منفرد معنویت رکھتی ہے۔ پاکستان یہاں محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ ایک اخلاقی امکان کے طور پر سامنے آیا ہے، ایک ایسا امکان جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اختلاف کے باوجود مکالمہ ممکن ہے۔ مگر مکالمہ صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں، بلکہ اعتماد کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ اور یہی وہ شے ہے جو ان مذاکرات میں سب سے زیادہ مفقود نظر آئی۔

دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر یہ مذاکرات تا حال کسی حتمی نتیجے تک نہیں بھی پہنچے، تو بھی انہوں نے ایک اہم مکالمہ شروع کر دیا ہے اور شاید یہی سب سے بڑی کامیابی ہےکیونکہ ہر بڑی تبدیلی ایک سوال سے شروع ہوتی ہے اور پاکستان نے یہ سوال پوری دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔

دنیا انتظار میں ہے۔ انتظار اس بات کا نہیں کہ کون جیتے گا، بلکہ اس بات کا کہ کیا انسان اپنی انا سے بالاتر ہو کر ایک ایسا راستہ اختیار کر سکتا ہے جہاں طاقت کے بجائے سمجھ بوجھ غالب ہو۔  فی الوقت طاقت اور اعتماد کے درمیان اعتماد سازی سے متعلق ایران کا موقف جاندار ہے۔ اگر دونوں فریقین حائل بد اعتمادی کی خلیج پار کر گئے تو شاید یہ مذاکرات تاریخ میں ایک نیا افق بن جائیں، جہاں سے گولہ بارود، میزائلوں کے شعلے نہیں بلکہ انسانیت کی بقا کی سنہری کرنیں پھوٹیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صدر آصف زرداری کا لبنان جنگ بندی کا خیرمقدم، خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات پر زور

پاکستان کی معروف خاتون سائیکلسٹ 28 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے فارن میڈیا ایکریڈیشن ہدایات جاری

نسیم شاہ پر جرمانہ پی سی بی کا فیصلہ، پنجاب حکومت کا کوئی تعلق نہیں، عظمیٰ بخاری

آزاد کشمیر انتخابات 2026: ن لیگ نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا، نواز شریف سربراہ مقرر

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟