متوفی کوٹہ پر عملدرآمد: عدالت کا شہری کو 15 روز میں ملازمت دینے کا حکم

جمعہ 17 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے محکمہ تعلیم میں متوفی کوٹہ پر ملازمت نہ دینے سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار کو 15 روز کے اندر ملازمت فراہم کی جائے۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق محکمہ تعلیم کے ایک ورکر (ورکشاپ اٹینڈنٹ) کا انتقال 2020 میں ہوا تھا، جس کے بعد ان کے بیٹے نے فوتی کوٹے کے تحت گریڈ 11 کے جونیئر کلرک کی آسامی کے لیے درخواست جمع کرائی۔

وکیل نے بتایا کہ متعلقہ محکمہ جاتی کمیٹی نے 2024 میں درخواست منظور کرتے ہوئے تقرری کی اجازت دی تھی اور آفر لیٹر بھی جاری کیا گیا تھا، تاہم بعد میں سپریم کورٹ کے کوٹہ سے متعلق فیصلے کی بنیاد پر یہ تقرری منسوخ کردی گئی۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متوفی کوٹہ پر تقرری ممکن نہیں رہی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ والد کے انتقال کے ساتھ ہی درخواست گزار کا ملازمت کا حق پیدا ہو چکا تھا اور اس حق کو بعد میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ماضی کے حاصل شدہ حقوق پر نہیں ہوتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کو پہلے ہی حق حاصل ہو چکا تھا، اس لیے شہریوں کے بنیادی اور حاصل شدہ حقوق برقرار رہیں گے۔

عدالت نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ 15 دن میں تقرری مکمل کر کے عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں