سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے محکمہ تعلیم میں متوفی کوٹہ پر ملازمت نہ دینے سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار کو 15 روز کے اندر ملازمت فراہم کی جائے۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق محکمہ تعلیم کے ایک ورکر (ورکشاپ اٹینڈنٹ) کا انتقال 2020 میں ہوا تھا، جس کے بعد ان کے بیٹے نے فوتی کوٹے کے تحت گریڈ 11 کے جونیئر کلرک کی آسامی کے لیے درخواست جمع کرائی۔
وکیل نے بتایا کہ متعلقہ محکمہ جاتی کمیٹی نے 2024 میں درخواست منظور کرتے ہوئے تقرری کی اجازت دی تھی اور آفر لیٹر بھی جاری کیا گیا تھا، تاہم بعد میں سپریم کورٹ کے کوٹہ سے متعلق فیصلے کی بنیاد پر یہ تقرری منسوخ کردی گئی۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متوفی کوٹہ پر تقرری ممکن نہیں رہی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ والد کے انتقال کے ساتھ ہی درخواست گزار کا ملازمت کا حق پیدا ہو چکا تھا اور اس حق کو بعد میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ماضی کے حاصل شدہ حقوق پر نہیں ہوتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کو پہلے ہی حق حاصل ہو چکا تھا، اس لیے شہریوں کے بنیادی اور حاصل شدہ حقوق برقرار رہیں گے۔
عدالت نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ 15 دن میں تقرری مکمل کر کے عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے۔














