پوپ لیو نے اس ہفتے اپنے 4 ممالک پر مشتمل افریقی دورے کے دوران ایک نیا اور زیادہ سخت انداز بیان اپنایا ہے جس میں انہوں نے جنگ اور معاشی عدم مساوات کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کے ان بیانات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ پر متعدد بار تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پوپ لیو نے ایران جنگ ختم کرنے اور امن مذاکرات کی اپیل کردی
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی پوپ لیو کی عالمی قیادت کے رجحانات پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ اپنے پوپ بننے کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران وہ نسبتاً کم متحرک نظر آئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز پوپ لیو کو بہت خراب قرار دیتے ہوئے تنقید کا آغاز کیا جو غالباً پوپ کی ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ پر تنقید کا ردِعمل تھا۔ جمعرات کو بھی انہوں نے دوبارہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پوپ خارجہ پالیسی کو نہیں سمجھتے۔
پوپ لیو، جو پہلے امریکی نژاد کارڈینل رابرٹ پریوسٹ تھے، نے اسی دن کیمرون میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ’چند ظالموں کے ہاتھوں تباہ ہو رہی ہے‘۔ تاہم پوپ نے اس حوالے سے کسی کا نام نہیں لیا۔
مزید پڑھیے: پوپ لیو چہاردہم کا ایران حملوں پر پہلا ردعمل، ہتھیاروں کے بجائے مکالمے پر زور
ایک سابق ویٹیکن نامہ نگار جان تھیوس کے مطابق عام طور پر پوپ بین الاقوامی سیاست میں محتاط رویہ اپناتے ہیں اور کھلی مذمت سے گریز کرتے ہیں۔
ان کے مطابق پوپ لیو سمجھتے ہیں کہ دنیا کو ناانصافی اور جارحیت کی واضح مذمت سننی چاہیے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ دنیا کے چند ایسے افراد میں سے ہیں جن کے پاس عالمی سطح کا پلیٹ فارم ہے۔
پوپ کو عالمی اخلاقی رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
پوپ نے مارچ تک امریکا کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے گریز کیا تھا لیکن بعد میں وہ ایران جنگ کے سخت ناقد کے طور پر سامنے آئے۔
اپریل کے آغاز میں انہوں نے پہلی بار ٹرمپ کا نام لے کر کہا تھا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے راستہ نکالیں۔ افریقہ کے دورے میں انہوں نے زیادہ سخت مؤقف اپنایا ہے۔
الجزائر اور کیمرون میں تقاریر کے دوران انہوں نے کہا کہ دنیا کے امیر ترین طاقتور ممالک کے فیصلے امن کے لیے خطرہ ہیں اور نو نوآبادیاتی طاقتیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
امریکی ریاست کینٹکی کے بشپ جان اسٹو کے مطابق، پوپ لیو ایک عالمی اخلاقی رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افریقہ کے دورے کے دوران ان کے بیانات زیادہ مؤثر ہیں کیونکہ وہ ان لوگوں کے سامنے دیے گئے جو جنگ، غربت اور قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔
پوپ کا ٹرمپ ازم پر نرم رویہ نہ رکھنے کا تاثر
تاریخی طور پر پوپ دنیا میں اخلاقی آواز کے طور پر ناانصافی کی مذمت کرتے رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ویٹیکن نے عموماً غیر جانبداری برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ثالثی کا کردار ادا کیا جا سکے۔
ماہر ماسیمو فاجیولی کے مطابق پوپ پائیس دوازدہم کی مثال اب بھی موجود ہے جن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ہولوکاسٹ کے دوران کافی آواز بلند نہیں کی۔
ان کے مطابق یہی تاریخی دباؤ ممکن ہے کہ پوپ لیو کو زیادہ سخت بیان دینے پر مجبور کر رہا ہو۔
مزید پڑھیں: جنگ مقبول ہورہی ہے، جنگی جنون بڑھ رہا ہے، پوپ لیو کا عالمی منظرنامے پر تشویش کا اظہار
ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا وہ چاہیں گے کہ ویٹیکن کو ’ٹرمپ ازم‘ کے خلاف نرم رویہ رکھنے کا الزام دیا جائے خاص طور پر کیونکہ وہ خود امریکی ہیں۔
پوپ لیو اپنے پیشرو پوپ فرانسس سے زیادہ سخت گیر
پوپ لیو، جو پیرو میں طویل عرصہ مشنری اور بشپ رہے، نے وہاں داخلی تنازعات اور مسلح گروہوں کے دور میں خدمات انجام دیں۔
ماہرین کے مطابق اس تجربے نے انہیں غربت، بدعنوانی اور تشدد کے اثرات کو قریب سے سمجھنے کا موقع دیا۔
پوپ فرانسس، جو ارجنٹینا سے تھے، بھی سخت بیانات کے لیے مشہور تھے اور انہوں نے بھی ٹرمپ سے اختلاف کیا تھا جنہوں نے انہیں ایک بار شرمناک کہا تھا۔
ماہرین کے مطابق پوپ لیو کے حالیہ بیانات شاید اب تک کسی بھی پوپ کے مقابلے میں زیادہ براہ راست اور سخت ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پوپ لیو کی یورپ میں پھیلتے اسلاموفوبیا پر کڑی تنقید، لبنان میں امن کی اپیل
ان کے الفاظ کہ ’دنیا چند ظالموں کے ہاتھوں تباہ ہو رہی ہے‘ کو طاقتور ممالک کی قیادت پر ایک کھلا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔














