چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ ہاف میراتھن میں انسان نما روبوٹس نے انسانوں کو پیچھے چھوڑ کر سب کو حیران کر دیا، جس سے روبوٹکس کے شعبے میں تیز رفتار ترقی واضح ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق درجنوں چینی ساختہ ہیومینائیڈ روبوٹس نے نہ صرف اپنی رفتار بلکہ خودکار انداز میں راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔ گزشتہ سال اسی مقابلے کے پہلے ایڈیشن میں بیشتر روبوٹس دوڑ مکمل کرنے میں ناکام رہے تھے، تاہم اس بار صورتحال یکسر مختلف رہی۔
اس سال 100 سے زائد ٹیموں نے مقابلے میں حصہ لیا جبکہ کئی روبوٹس نے پیشہ ور انسانی ایتھلیٹس سے بھی بہتر کارکردگی دکھائی۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کے اسپتال نے زندہ عطیہ دہندگان کے لیے جگر کی روبوٹک سرجری میں سنگِ میل عبور کرلیا
مقابلے میں کامیابی چینی اسمارٹ فون کمپنی آنر کے تیار کردہ روبوٹ نے حاصل کی، جس نے 21 کلومیٹر کی دوڑ صرف 50 منٹ 26 سیکنڈ میں مکمل کی۔ یہ وقت گزشتہ ماہ قائم ہونے والے انسانی ہاف میراتھن عالمی ریکارڈ سے بھی بہتر بتایا جا رہا ہے۔
جیتنے والے روبوٹ کو ایک سال میں تیار کیا گیا تھا اور اس میں لمبی ٹانگیں اور مائع کولنگ ٹیکنالوجی نصب کی گئی، جو کمپنی اپنے اسمارٹ فونز میں استعمال کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی میراتھن اور سائیکلنگ ریس کی تیاریاں مکمل
ماہرین کے مطابق اگرچہ ہیومینائیڈ روبوٹس کا تجارتی استعمال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم مستقبل میں یہ صنعت، خطرناک کاموں اور دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چین اس جدید شعبے میں عالمی قیادت حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور حکومتی سرپرستی فراہم کر رہا ہے۔












