امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے متعلق مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ان مذاکرات میں ایران سے صرف ایک بات چاہتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کا وعدہ کرے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ اگر ڈیڈ لائن سے پہلے کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو نہ جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم ہوگی۔
ان کے مطابق معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں اور جنگ چھڑنے کا خدشہ موجود ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو بہت سے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایران کو مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے اور پہلے ہی اس بات پر اتفاق ہوا تھا، تاہم اگر ایران شریک نہیں ہوتا تو یہ بھی ٹھیک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل بات یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں اور اسی نکتے پر بات چیت جاری ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہاکہ انہوں نے مذاکرات کے لیے اپنی اے ٹیم بھیجی ہے جو بہترین کارکردگی دکھا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اگر ایران تنازع کے حل کی طرف بڑھتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی سے کمی آئے گی۔
اس سے قبل امریکی صدر کا کہنا تھا کہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو چکے ہیں اور چند گھنٹوں بعد اسلام آباد میں ہوں گے۔














