کبھی ہاں کبھی ناں: ایران امریکا مذاکرات کی کہانی

بدھ 22 اپریل 2026
author image

اویس لطیف

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا چار سو چرچا ہے اور دونوں ممالک سخت سفارتی جدوجہد کے ذریعے مذاکراتی ٹیبل سے زیادہ سے زیادہ فائدے حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے، جس کی بنیاد وں میں امریکی تعاون حاصل ہے جب آج سے 7دہائیاں قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ‘اچھے دن’ چل رہے تھے، جب  1957 کے ’ایٹمز فار پیس‘ پروگرام نے ایران کو امریکی حمایت سے اپنا جوہری پروگرام شروع کرنے میں مدد کی۔

1979 میں امام خومینی کے اسلامی انقلاب کے بعد جب امریکا نے ایران کا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کا منصوبہ بنایا، اس سے چند سال قبل ہی 1975  امریکا اور ایران نے 8 ری ایکٹرز کے لیے 6.4 بلین ڈالر کے جوہری معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ دستخط بھی کوئی معمولی حکومتی سطح پر نہیں کیے گئے ، اسی سال دنیا کے امریکا کے قریبی ترین اتحادی شاہ ایران کے تاریخی دورہ امریکا میں صدر جیرالڈ آر فورڈ اور شاہ ایران کے درمیان معاہدے کے نکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، یو ں آج امریکا اور ایران کے درمیان پائے جانے والے سب سے متنازعہ ایٹمی پروگرام کو ‘امریکی بچہ’ قرار دیا جا سکتا ہے۔

شاہ کا ایران امریکا کا اتحادی، مذاکرات کار نہیں

گزشتہ 5 دہائیوں سے انتہائی کشیدہ ترین امریکا ایران تعلقات یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ دشمنی ازل سے مگر ایسا نہیں کبھی امریکا ایران کا سب سے قریبی اتحادی تھا ، ہر امریکی حکومت مشرق وسطی میں اس پر بھروسہ کر سکتی تھی، امریکا اور ایران کے درمیان اتحاد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  1957 کے ’ایٹمز فار پیس‘ پروگرام نے ایران کو امریکی حمایت سے اپنا جوہری پروگرام شروع کرنے میں مدد کی، یعنی امریکہ جب دنیا بھر میں ایٹمی پروگرامز کے خلاف مہم چلا رہا تھا، تب وہ ایران کے ہاتھ مضبوط کر رہا تھا کہ وہ یہ ٹیکنالوجی حاصل کر لے۔ پاس کی دہائی سے انقلاب ایران تک امریکا نے ایران سے کبھی مذاکرات نہیں کیے، بلکہ کھل کر حمایت کی۔

 1979-1980یرغمالی بحران ، پہلی براہ راست بحران بات چیت

انقلاب ایران کے بعد امریکا اور ایران کے تعلقات کے ‘اچھے دن’ فوری ختم ہوئے کیوں کہ امریکہ سخت گیر اسلامی انقلابیوں کو کسی صورت اقتدار نہیں دے سکتا تھا، جو مشرق وسطی میں اس کے اہم اتحادی اسرائیل کیلئے براہ راست خطرہ تھے۔

انقلاب کے ہنگام میں انقلابیوں نے نومبر 1979 امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور 52 امریکیوں کو 444 دن قید رکھا گیا۔ اس دوران امریکا اور ایران کے حکومتی ارکان مسلسل رابطے میں رہے، جس میں الجزائر کی ثالثی شامل تھی، امریکا کا بنیادی مقصد اتنی بڑی تعداد میں یرغمالیوں کو رہا کروانا تھا جو امریکی صدر جمی کارٹر کیلئے درد سر بنے ہوئے تھے۔

امریکی صدر اگر رہائی میں کامیاب نہ ہو پاتے تو انہیں سیاسی مستقبل تاریک نظر آ رہا تھا اس لیے انہوں نے عوامی رائے عامہ کے تحت ایران سے بھرپور مذاکرات کیے اور کئی ثالثوں کو بیچ میں ڈالا۔

جنوری 1981 الجزائر ایکارڈ امریکا ایران سفارتی تعلقات کے خاتمے کا نکتہ آغاز

افریقی ملک الجزائر کی میزبانی میں جمی کارٹر کی درخواست پر یرغمالیوں کی رہائی کیلئے طویل مذاکرات ہوئے اور دونوں گروپس سمجھوتے پر راضی ہوئے، اس معاہدہ کو الجزائر ایکارڈ کا نام دیا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت  امریکا نے ایرانی اثاثوں میں 8 بلین ڈالر کی رقم منجمد کر دی، عدم مداخلت کا وعدہ کیا۔ ایران نے یرغمالیوں کو رہا کر دیا۔ اس سے رسمی سفارتی تعلقات ختم ہو گئے۔ مگر ایران کے بقول امریکا جلد ہی عدم مداخلت کے وعدے سے مکر گیا اور انقلابی ایران کے خلاف اقدامات شروع کر دیے۔

 2001، نائن الیون جس نے امریکہ ایران تعلقات کو بھی متاثر کیا

 90کی دہائی ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات اور تنازعات کے حوالے سے بظاہر خاموش سال مانے جاتے ہیں جب کوئی بڑی سفارتی کوشش سامنے نہیں آئی، مگر مختلف طریقے سے بیک چیلنز بھی کام کرتے رہے۔ 2001 میں امریکا میں تاریخ کے بدترین دہشت گرد حملے ہوئے، جنہوں نے امریکی سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی تبدیل کر کے رکھ دی۔

جہاں یہ واقعات امریکا کیلئے نیا آغاز ثابت ہوئے، وہیں ساری دنیا میں دیر پا تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔افغانستان کے خلاف جب امریکا میدان میں اترا تو اس سے قبل بطور پڑوسی ایران کا مکمل تعاون حاصل کیا، مگر یہ تعاون عارضی ثابت ہوا اور جلد ہی صرف ایک سال بعد 2002 میں امریکی صدر بش نے ایران کو ‘برائی کے محور’ کا حصہ قرار دیا۔

یوں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون پھر سے ختم ہو گیا۔ مئی 2003  ایران نے سوئس سفیر کے ذریعے ’گرینڈ بارگین‘ کی تجویز بھیجی، جس میں تمام متنازعہ امور پر کھل کر اور تفصیلی بات چیت کی پیشکش کی گئی تھی۔

ان تجاویز میں مکمل جوہری شفافیت، حماس/حزب اللہ کی حمایت میں کمی، اسرائیل کو تسلیم کرنا، سیکیورٹی کی ضمانتوں کے بدلے پابندیاں ختم کرنا شامل تھا۔

مگر حیران کن طور پر افغانستان کے قضیے میں الجھی ہوئی بش انتظامیہ نے ان تجاویز کا جواب انتہائی سر مہری سے دیا اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا ایک بڑا موقع ضائع ہو گیا۔

2013 سے 2016 جب 5 دہائیوں میں پہلی بار امریکا ایران جامع مذاکرات کی میز سجی۔

مارچ سے ستمبر 2013  کے عرصے میں عمان میں امریکا-ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے۔ اصلاح پسند ایرانی صدر حس روحانی الیکشن کے ذریعے جیت کر سامنے آئے اور  بات چیت کی بھرپور وکالت کی۔ نومبر 2013 جوائنٹ پلان آف ایکشن تیار کیا، جزوی پابندیوں میں ریلیف دیا گیا۔

جولائی 2015 ویانا میں JCPOA پر دستخط ہوئے۔ ایران نے محدود افزودگی، سینٹری فیوجز میں کمی، آئی اے ای اے کے معائنے کی اجازت دی جیسے معاملات پر اتفاق کیا، جس کے جواب میں اقوام متحدہ، پورپی یونین اور امریکا نے پابندیاں ہٹالیں۔

پل میں تولہ پل میں ماشا: ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے کئی سالوں کی سفارتی محنت کو کوڑے دان میں پھینک دیا

مئی 2018 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا فرسٹ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے اور نہ صرف بہت سی امریکی روایتی پالیسیوں کو تہس نہس کر دیا، بلکہ وہ   The Joint Comprehensive Plan of Action  سے بھی دستبردار ہو گئے، جو سابقہ امریکی حکومت، پورپی ممالک، چین اور روس کے سفارتکاروں کی طویل سفارتی جدوجہد کے بعد تشکیل پایا تھا۔

ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں دوبارہ لگائیں۔ میزائل پروگرام روکنے کا مطالبہ کیا۔ گزشتہ 10 سال جب امریکا میں زیادہ عرصہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت رہی ہے اور امریکہ ایران کے تعلقات میں بہتری کے اثار کم ہی نظر آئے ہیں۔

ایک قدم آگے دو پیچھے، گزشتہ 2 سال میں ایران امریکا مذاکرات کی صورت حال

جنوری 2025 میں صدر ٹرمپ نے بطور امریکی صدر دوبارہ وول آفس میں قدم رکھا اور دھماکے دار واپسی کی۔ ٹرمپ نے زیادہ دباو مگر جامع معاہدہ جیسی پالیسی اختیار کی۔ اپریل 2025 عمان  اور قطر نے بالواسطہ پیغامات میں ثالثی کی۔ ایران نے اس سارے عرصے میں پابندیوں کے دوران براہ راست بات چیت سے انکار کیا۔

رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان 2 جنگوں کے باوجود براہ راست بات چیت کے حوالے سے سب سے متحرک سال رہا ہے۔ پاکستان اس سال سب سے موثر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جو اسلام آبا د میں دوسری بار براہ راست مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار