ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیوں میں میزائلوں کے مسلسل استعمال نے امریکا کے اسلحہ ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ ماہرین نے مستقبل میں ممکنہ کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی درخواست پر ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایران سے متعلق فوجی سرگرمیوں کے دوران امریکی میزائلوں کا استعمال نمایاں حد تک بڑھا ہے، جس سے نہ صرف دفاعی ذخائر متاثر ہو رہے ہیں بلکہ اسلحہ سازی کے لیے درکار خام مال پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہر میزائل کے استعمال کے ساتھ مخصوص دھاتوں اور وسائل، خصوصاً ٹنگسٹن جیسے عناصر کی کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سپلائی چین پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹس کے مطابق دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار سے میزائلوں کا استعمال جاری رہا تو امریکا کو اپنے اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کے لیے اضافی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جدید میزائل سسٹمز کی تیاری وقت طلب اور مہنگا عمل ہے، اس لیے فوری طور پر ذخائر میں کمی کو پورا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے پینٹاگون کو ایک جانب جاری عسکری کارروائیوں کو برقرار رکھنا ہے جبکہ دوسری جانب طویل المدتی دفاعی تیاری کو بھی یقینی بنانا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا کو بیک وقت مختلف عالمی محاذوں پر اپنی فوجی موجودگی اور دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، جس سے وسائل کے مؤثر استعمال کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔











