خلیجِ عمان میں ایرانی پرچم بردار جہاز کی امریکی تحویل کے معاملے پر چین اور امریکا کے درمیان لفظی محاذ آرائی تیز ہو گئی ہے۔ بیجنگ نے اس واقعے کو اپنے ساتھ جوڑنے کی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قیاس آرائیاں قرار دیا ہے، جبکہ ایران نے امریکی اقدام کو ’سمندری دہشتگردی‘ کہا ہے۔
چین نے خلیجِ عمان میں امریکی بحریہ کی جانب سے تحویل میں لیے گئے ایک جہاز کے معاملے پر خود کو اس سے جوڑنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد تعلق‘ اور ’قیاس آرائی‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایرانی کارگو جہاز پر امریکی کارروائی، سینٹکام نے قبضے اور حملے کی ویڈیو جاری کر دی
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گاؤ جیاکن نے منگل کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جس جہاز کو امریکا نے قبضے میں لیا وہ ایک غیر ملکی کنٹینر بردار جہاز ہے اور اس کا چین سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ ردعمل اس بیان کے بعد سامنے آیا جو امریکا میں اقوام متحدہ کی سابق سفیر نکی ہیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی کارروائی میں روکا گیا ایرانی پرچم بردار جہاز چین سے روانہ ہوا تھا اور اس میں میزائلوں کے لیے کیمیائی مواد منتقل کیا جا رہا تھا۔
چینی ترجمان نے واضح کیا کہ چین اس جہاز کے حوالے سے کسی بھی غلط نسبت اور قیاس آرائی کو مسترد کرتا ہے۔
دوسری جانب سینٹکام نے اتوار کو تصدیق کی تھی کہ امریکی بحریہ نے 19 اپریل کو خلیجِ عمان میں ایک ایرانی پرچم بردار جہاز کو نشانہ بنایا، جب اس نے مبینہ طور پر امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی۔
سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے بحیرۂ عرب میں کارروائی کے دوران جہاز کو متعدد بار خبردار کیا اور بتایا کہ وہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے خلیج عمان میں ایرانی ہیلی کاپٹر نے امریکی بحری جہاز کو وارننگ کیوں دی؟
ادھر ایران نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکا سے فوری طور پر جہاز، اس کے عملے اور ملاحوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ توسکا نامی کارگو جہاز کی ضبطی ایک غیر قانونی اقدام ہے جس میں عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو دھمکایا گیا، جو سمندری قزاقی اور دہشتگردی کے مترادف ہے۔














