بنگلہ دیش کے شہر کومیلا کی ایک عدالت نے کالج کی طالبہ سوہاگی جہاں ٹونو کے قتل کیس میں نامزد ملزم حفیظ الرحمان کے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دے دی ہے۔
یہ اس ہائی پروفائل مقدمے میں جرم کے ارتکاب کے ایک دہائی بعد یہ پہلی باضابطہ گرفتاری ہے۔
پولیس بیورو آف انویسٹیگیشن کے اہلکاروں نے ملزم کو کومیلا کی ضلعی عدالت میں پیش کیا سینیئر جوڈیشل مجسٹریٹ مومن الحق نے بدھ کے روز یہ حکم جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں 2013 کے متنازع آپریشن کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کا دعویٰ
تحقیقاتی حکام کے مطابق، حفیظ الرحمان کو اس سے قبل پولیس بیورو آف انویسٹیگیشن کے اہلکاروں نے ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔
اس سے قبل رواں ماہ کیس کے 7ویں تفتیشی افسر نے عدالت سے 3 مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونوں کے باہمی موازنہ کی اجازت طلب کی تھی۔
ان مشتبہ افراد میں ریٹائرڈ فوجی اہلکار سارجنٹ زاہد، وارنٹ آفیسر حفیظ الرحمان، اور سپاہی جہانگیرعالم شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں اصلاحات پر یوٹرن؟ پارلیمنٹ نے اہم قوانین ختم کر دیے، اپوزیشن کا تشویش کا اظہار
عدالتی ذرائع کے مطابق، گزشتہ 10 برسوں میں اس مقدمے کی تقریباً 80 سماعتیں ہوچکی ہیں، جبکہ 4 مختلف اداروں کے 7 تفتیشی افسران اس کیس کی تحقیقات کر چکے ہیں۔
سماعت کے دوران ٹونو کے والدین اور ان کا کم عمر بھائی بھی عدالت میں موجود تھے۔
یاد رہے کہ 2016 میں ٹونو کے قتل نے بنگلہ دیش بھر میں شدید غم و غصہ پیدا کیا تھا اور یہ کیس برسوں تک حل طلب رہا، جو انصاف میں تاخیر کی ایک علامت بن گیا ہے۔














