بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ نے 2024 کے طلبا احتجاج کے بعد متعارف کرائی گئی کئی اہم اصلاحات کو ختم یا غیر مؤثر بنا دیا ہے، جس پر اپوزیشن اور تجزیہ کاروں نے جمہوری عمل میں پسپائی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ یہ اصلاحات سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری دور میں متعارف کروائی گئی تھیں۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش کا غیر ملکی قرض 78 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا
رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ نے 133 آرڈیننسز کا جائزہ لیا، جن میں سے 23 کو یا تو منسوخ کر دیا گیا یا وہ مقررہ مدت میں منظوری نہ ملنے کے باعث ختم ہو گئے۔ ان میں انسانی حقوق، عدالتی نگرانی، پولیس اصلاحات اور انسداد بدعنوانی سے متعلق اہم قوانین شامل تھے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام اصلاحات کو بہتر اور مؤثر بنانے کے لیے قانونی نظرثانی کا حصہ ہے، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس سے اختیارات دوبارہ مرکزیت اختیار کر رہے ہیں اور احتساب کا نظام کمزور ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیش ترویدی بنگلہ دیش میں نئے بھارتی ہائی کمشنر ہوں گے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت بنگلہ دیش میں سیاسی منتقلی کے عمل اور طاقت کے توازن پر جاری کشمکش کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر احتجاج اور ممکنہ ملک گیر تحریک کا عندیہ بھی دیا ہے۔














