یونیورسٹی آف ڈھاکہ کے تاریخی بوہڑ کے درخت کے سائے میں منعقدہ تقریب کے شرکا نے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی 88ویں برسی کے موقع پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
تذکرہ اقبالیات مرکز کے زیرِ اہتمام ’بیداری نوِ افکار اور شام یاد اقبال و مقابلہ مطالعہ اقبالیات‘ کے موضوع پر اس تقریب میں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب میں مقررین نے واضح کیا کہ اقبال صرف پاکستان کے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے شاعر ہیں، جن کے افکار نے محکوم قوموں کو شعور عطا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی سفارتخانے کا ’یوم اقبال‘ پر شاعر مشرق کو زبردست خراج تحسین
ایرانی مقرر شہاب الدین ماشایخی نے کہا کہ فکرِ اقبال نے ایرانی نوجوانوں کو استعماری قوتوں کے خلاف مزاحمت کا حوصلہ دیا.
سماجی رہنما عارف سہیل نے کہا کہ حالیہ عوامی مزاحمت اور بھارتی اجارہ داری کے خلاف بنگلہ دیشی نوجوانوں کی جدوجہد بھی فکرِ اقبال سے حاصل شدہ شعور کا مظہر ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر کوثر ابوالعلائی نے بتایا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں علامہ اقبال کی کتاب ’دی ری کنسٹریکشن آف تھاٹس اِن اسلام‘ اور فلسفہ خودی پر باقاعدہ تحقیقی کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ آف پاکستان میں علامہ اقبالؒ کے یومِ پیدائش پر قراردادِ خراجِ عقیدت منظور
پروفیسر ڈاکٹر غلام ربانی نے زور دیا کہ آج کی بقا مغربی تہذیب کے بجائے فکرِ اقبال کی روشنی میں اسلامی تعلیمات اپنانے میں ہے۔
تقریب کے آغاز پر محمد مہیرالزمان کی صدارت میں ایک علمی نشست میں سابق چیئرمین شعبہ فلسفہ، ڈھاکہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہ کوثر مصطفیٰ ابوالعلائی، ایرانی عالم و شاعر حجۃ الاسلام والمسلمین شہاب الدین ماشایخی راد، اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے اورشعبۂ اردو سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر غلام ربانی نے شرکت کی۔
تقریب کی خاص پیشکش ’فکرِ اقبال‘ نامی کتاب پر مبنی مطالعہ اقبالیات کا مقابلہ، لائیو کوئز اور محفلِ قوالی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر اور وزیراعظم کا علامہ اقبال کو خراجِ عقیدت، فکرِ اقبال کو عملی زندگی کا حصہ بنانے پر زور
مطالعہ اقبالیات میں اول، دوم اور سوم آنے والے امیدواروں کو بالترتیب 4000، 3000 اور 2000 ٹکا نقد انعام دیا گیا۔
تقریب کے اختتامی حصے میں پرائمری اسکول کی طالبات نے علامہ اقبال کی مشہور نظم ’دعا‘ ترنم کے ساتھ پیش کی۔
محفل کا اختتام ڈھاکہ یونیورسٹی کے معروف ’سلسلہ بینڈ‘ کی روح پرور قوالی سے ہوا، جنہوں نے ’خودی کا سر نہاں‘ اور ’ہر لحظہ ہے مومن‘ جیسے کلام پیش کرکے حاضرین کے لہو کو گرمایا۔













