ماہرین نے ایک نئی قسم کا اے آئی چپ تیار کیا ہے جو توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی میں ہونے والی اس تحقیق کے مطابق یہ چپ روایتی آکسائیڈ بیسڈ میمرسٹرز کے مقابلے میں تقریباً 10 لاکھ گنا کم سوئچنگ کرنٹ پر کام کرتا ہے جو اے آئی انڈسٹری کے ایک بڑے مسئلے یعنی بڑھتی ہوئی توانائی کی کھپت کا مؤثر حل بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا
موجودہ اے آئی ماڈلز میں ڈیٹا کو مسلسل اسٹوریج اور کمپیوٹنگ سسٹمز کے درمیان منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے توانائی کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے جیسے مختلف شعبوں میں اے آئی کا استعمال بڑھ رہا ہے، یہ لاگت بھی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اے آئی ڈیٹا سینٹرز دنیا میں توانائی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات میں شامل ہو چکے ہیں۔ کیمبرج کے محققین نے اس مسئلے کا حل ڈیٹا ٹرانسفر کو ختم کرنے کی صورت میں پیش کیا ہے۔
روایتی میمرسٹر ڈیوائسز میں دھاتی آکسائیڈ کے اندر ننھے فلامنٹس بنائے جاتے ہیں جو غیر مستحکم ہوتے ہیں اور زیادہ وولٹیج کے محتاج ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس نئی ٹیکنالوجی میں ہافنیم کی باریک تہہ استعمال کی گئی ہے جسے اسٹرونٹیم اور ٹائٹینیم سے بہتر بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: کیا بڑے سائز کے ڈیٹا سینٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟
اس تحقیق کی قیادت ڈاکٹر بابک بخیت نے کی جن کے مطابق نئی ڈیوائس فلامنٹ بنانے کے بجائے انٹرفیس لیئرز میں توانائی کی رکاوٹ کو تبدیل کر کے کام کرتی ہے جس سے کارکردگی زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد ہو جاتی ہے۔
ٹیسٹنگ کے دوران یہ ڈیوائس ہزاروں سوئچنگ سائیکلز میں مستحکم رہی اور اس میں ’اسپائک ٹائمنگ ڈیپینڈنٹ پلاسٹیسٹی‘ جیسی خصوصیت بھی دیکھی گئی جو حیاتیاتی نیورونز کی طرح سیکھنے کے عمل سے متعلق ہے۔
یہ چپ 100 سے زائد مختلف کنڈکٹنس لیولز کو محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو جدید اینالاگ اِن میموری کمپیوٹنگ کے لیے ضروری ہے اور ایک ایسی صلاحیت جو موجودہ میمرسٹر ٹیکنالوجی میں محدود ہے۔
تاہم اس ٹیکنالوجی کو اس وقت تقریباً 700 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت درکار ہے جو موجودہ سیمی کنڈکٹر معیارات سے زیادہ ہے۔
ڈاکٹر بابک کے مطابق اس مقام تک پہنچنے کے لیے 3 سال تک مسلسل کوششیں کی گئیں اور اب ٹیم اس درجہ حرارت کو کم کرنے پر کام کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ’اے آئی سیکھو 2026‘ پروگرام کا آغاز، پاکستانی نوجوانوں کے لیے مفت مصنوعی ذہانت کی تربیت
یہ پیشرفت مستقبل میں زیادہ مؤثر، کم توانائی استعمال کرنے والی اے آئی ٹیکنالوجی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔














