چین کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی ایکس پینگ نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب لانے کی تیاری کرلی ہے۔ کمپنی کے صدر برائن گو نے کہا ہے کہ ایکس پینگ اگلے سال سے اپنی ‘فلائنگ کارز’ (اڑنے والی کاروں) کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کردے گی، جبکہ سن 2026 کی چوتھی سہ ماہی تک انسان نما ‘ہیومنائیڈ روبوٹس’ کی تیاری کا آغاز بھی کردیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی چینی کمپنیوں کو ملک میں ٹیکنالوجی پارکس بنانے کی دعوت
چینی میڈیا کے مطابق بیجنگ آٹو شو سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برائن گو نے بتایا کہ کمپنی کو اڑنے والی کاروں کے لیے اب تک 7 ہزار سے زائد آرڈرز موصول ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق چین سے ہے۔ ان کاروں کی باقاعدہ پرواز کے لیے ہوائی بازی کے ریگولیٹرز سے منظوری کا عمل جاری ہے۔
https://twiiter.com/XPENG_Global/status/2046545056501207474
ہیومنائیڈ روبوٹس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ان روبوٹس کو شورومز میں ریسیپشنسٹ اور سیلز اسسٹنٹ کے طور پر تعینات کیا جائے گا، تاہم اگلے 10 سے 20 سالوں میں یہ شعبہ کمپنی کے آٹوموٹو ڈویژن سے بھی بڑا بزنس بن سکتا ہے۔
ایکس پینگ نے اس سال گوانگ زو میں ‘روبو ٹیکسی’ (بغیر ڈرائیور ٹیکسی) کی آزمائش شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اگلے ڈیڑھ سال کے دوران ہزاروں کی تعداد میں روبو ٹیکسیاں تیار کی جائیں گی۔ برائن گو نے جرمن آٹو میکر ‘وولکس ویگن’ کے ساتھ اشتراک کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیگر عالمی اداروں کے ساتھ بھی شراکت داری کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سائنس دانوں نے سُپر فاسٹ اور خاموش آبدوزوں کے لیے کون سی ٹیکنالوجی دریافت کی؟
واضح رہے کہ ایکس پینگ اس وقت دنیا کے 60 ممالک میں کام کررہی ہے اور گزشتہ برس کمپنی کی آمدنی کا 15 فیصد بین الاقوامی منڈیوں سے حاصل ہوا تھا۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ اگلے 5 سے 10 سالوں میں اس کی نصف سے زائد آمدنی چین سے باہر کی مارکیٹوں سے حاصل ہو، جس کے لیے عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کے ٹیسٹ اور نیٹ ورک میں تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے۔













