چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ بحرِ ہند عالمی تجارت کی شہ رگ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلینس کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’جدید ٹیکنالوجیز اور مستقبل کی جنگ‘ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف کی خدمات کا اعتراف، ترکیہ نے اعلیٰ عسکری اعزاز سے نوازا
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس کانفرنس کا بنیادی مقصد بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹیجک رجحانات اور جنگی میدان میں جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔
امیر البحر نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں دفاعی صنعت، تعلیمی اداروں اور صارفین کے درمیان قریبی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دفاعی شعبے میں خود انحصاری اور مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ملک میں کم لاگت اور عالمی معیار کی حامل دفاعی صنعت قائم کی جا سکے۔
میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلینس کے زیرِ اہتمام “جدید ٹیکنالوجیز اور مستقبل کی جنگ” پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔
کانفرنس کا مقصد بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹیجک رجحانات اور جنگ پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے بطور… pic.twitter.com/ljRWqcWWuw
— PTV News (@PTVNewsOfficial) April 23, 2026
نیول چیف نے بحرِ ہند کی جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ مستقبل کی جنگی حکمت عملیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بحرِ ہند سے ہونے والی عالمی تجارت میں ذرا سی رکاوٹ بھی بین الاقوامی اقتصادی نظام پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی اے ایف اکیڈمی رسالپور میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف مہمان خصوصی
کانفرنس کے دوران ماہرین نے اس نکتے کو بھی اجاگر کیا کہ تیز رفتار تکنیکی ترقی نہ صرف جنگ کی نوعیت بدل رہی ہے بلکہ اس سے روایتی دفاعی حکمتِ عملیوں کی بھی ازسرِ نو تعریف ہو رہی ہے۔
اس اہم تقریب میں اعلیٰ عسکری قیادت، پالیسی سازوں، سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم اور صنعت کاروں سمیت طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے مستقبل کے جنگی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علمی و فکری تعاون کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کانفرنس جدید دفاعی چیلنجز کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔














