جنوبی ایشیا میں شادی کی روایات مہنگی پڑ گئیں، سونے کے بجائے متبادل جیولری کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی ایشیا میں سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد شادیوں کی روایات بھی بدلنے لگی ہیں، جہاں اب دلہنیں اور خاندان مہنگے زیورات کے بجائے سستے متبادل، خاص طور پر ’ون گرام گولڈ‘ اور نقلی جیولری کا رخ کر رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ اکاؤنٹنٹ عظمیٰ بشیر اپنی شادی کی تیاریوں کے دوران ہر روز سونے کی قیمتیں چیک کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس خطے میں سونا محض زیور نہیں بلکہ عزت اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی شادی کے زیورات خود خریدنا چاہتی تھیں تاکہ والدین پر بوجھ نہ پڑے، مگر کم آمدنی کے باعث وہ ایک انگوٹھی تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتیں، جس کی قیمت ان کی تین ماہ کی تنخواہ کے برابر ہے۔

جنوبی ایشیا میں روایتی طور پر دلہن کو سونا نہ صرف زیب و زینت بلکہ تحفظ کے طور پر بھی دیا جاتا ہے، کیونکہ کئی معاشروں میں جہیز کے تقاضے اور سسرال کے دباؤ اب بھی ایک حقیقت ہیں۔

قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، رجحانات میں تبدیلی

رواں سال عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کے باعث خطے بھر میں زیورات کی خریداری متاثر ہوئی۔

زیورات کے تاجروں کے مطابق اب زیادہ تر خریدار خالص سونے کے بجائے متبادل جیسے نقلی زیورات، کم کیرٹ گولڈ یا ’ون گرام گولڈ‘ کا انتخاب کر رہے ہیں، جس میں بنیادی دھات پر سونے کی ہلکی تہہ چڑھائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے راولپنڈی کے ایسے جیولرز جو آج بھی اپنے گاہکوں کو سستا سونا دے رہے ہیں

عظمیٰ بشیر کے مطابق یہ متبادل ان کے لیے ’نجات دہندہ‘ ثابت ہوا ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ اپنی شادی کے دن سونے جیسے زیورات پہن سکتی ہیں۔

پاکستان میں بھی سونا لگژری بن گیا

پاکستان میں بھی خالص سونے کے زیورات اب امیر طبقے تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ تاجروں کے مطابق گزشتہ ایک سال میں سونے کے زیورات کی فروخت میں تقریباً 50 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ قیمتیں فی تولہ تقریباً 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہیں۔

خریدار اب 18 یا 12 کیرٹ سونے یا گولڈ پلیٹڈ زیورات کا انتخاب کر رہے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی عائشہ خان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں روایتی انداز میں سونے کے زیورات خریدنا ممکن نہیں رہا، تاہم متبادل زیورات کے ذریعے لوگ شادیوں میں خوبصورتی کا تاثر برقرار رکھ سکتے ہیں۔

بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی یہی رجحان

نئی دہلی کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی فاطمہ بیگم بھی اپنی بیٹی کی شادی کے لیے ون گرام گولڈ تلاش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں متوسط طبقہ خالص سونا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اس لیے وہ اخراجات کم کرنے کے لیے متبادل زیورات کا سہارا لے رہی ہیں۔

بنگلہ دیش میں بھی صورتحال مختلف نہیں، جہاں سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد عام افراد کے لیے اس کا استعمال مشکل ہو گیا ہے۔ ڈھاکہ کے بازاروں میں نقلی زیورات کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں کم قیمت میں خوبصورت ڈیزائن دستیاب ہیں۔

ماہرین کے مطابق نقلی زیورات نہ صرف سستے ہیں بلکہ ڈیزائن کے لحاظ سے بھی زیادہ متنوع ہوتے ہیں، جبکہ سونے کے زیورات چوری ہونے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔

بدلتے رجحانات اور سماجی اثرات

کشمیر سے تعلق رکھنے والی شبانہ خان، جن کی شادی جلد متوقع ہے، کہتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ سونے کے بھاری زیورات کا خواب دیکھا تھا، مگر قیمتوں نے یہ خواب مشکل بنا دیا۔ ان کے منگیتر شہباز خان کے مطابق لاکھوں روپے کے زیورات خریدنا ممکن نہیں، اس لیے انہوں نے ون گرام گولڈ کا انتخاب کیا۔

تاہم ہر کوئی اس رجحان سے متفق نہیں۔ سری نگر کی رہائشی ریحانہ اشرف کے مطابق نقلی زیورات اصل سونے کا متبادل نہیں ہو سکتے اور یہی مالی مشکلات ان کی شادی میں بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں چاندی کی بڑھتی قیمت، کیا چاندی سونے کی جگہ لے رہی ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ لوگوں کا رویہ بدل رہا ہے اور اب سونے کو روزمرہ استعمال کے بجائے سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ شادیوں میں اس کے متبادل تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق اگر قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں جنوبی ایشیا میں شادیوں کی روایات میں مزید نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp