برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں ایسی قانون سازی متعارف کرائے گی جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا جا سکے گا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق اگر یہ اقدام مکمل ہوتا ہے تو یہ برطانیہ کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ کسی خودمختار ملک کی باقاعدہ مسلح فورس کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: برطانوی جامعات میں طلبہ کی خفیہ نگرانی کا انکشاف، فلسطین کے حق میں بولنے والے نشانہ بننے لگے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک برطانیہ میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت صرف غیر ریاستی گروہوں اور تنظیموں پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں، تاہم نئی پالیسی کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس فیصلے سے برطانیہ میں موجود یہودی تنظیموں اور ایرانی حکومت کے مخالف حلقوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہونے کا امکان ہے، جو کافی عرصے سے اس اقدام کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: برطانوی حکومت بحران کا شکار، پیٹر مینڈلسن کی بطور سفیر تقرری پر دباؤ کے انکشافات
دوسری جانب یورپی یونین بھی پہلے ہی پاسداران انقلاب کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر چکی ہے، اور فروری میں اسے دہشتگرد قرار دینے سے متعلق فیصلہ سامنے آ چکا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ یہ قانون منظور کر لیتا ہے تو ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔














