برطانوی حکومت بحران کا شکار، پیٹر مینڈلسن کی بطور سفیر تقرری پر دباؤ کے انکشافات

منگل 21 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی وزارتِ خارجہ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پیٹر مینڈلسن کی بطور سفیر امریکا میں تعیناتی کے ضمن میں وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے دفتر کی جانب سے مسلسل دباؤ کا سامنا رہا تھا۔

سابق اعلیٰ عہدیدار اولی رابنز کے اس انکشاف نے برطانوی وزیرِاعظم کے لیے خطرہ بنتے ہوئے تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین اسکینڈل پر برطانوی وزیراعظم دباؤ میں، متاثرین سے معذرت کرلی

یہ تنازع اس بات پر شدت اختیار کر گیا ہے کہ اپنے ماضی اور بدنام امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے باوجود پیٹرمینڈلسن کو امریکا میں برطانیہ کے اعلیٰ ترین سفارتی عہدے پر کیوں تعینات کیا گیا۔

لیبر پارٹی کے سینیئر رہنما کی امریکا میں بطور برطانوی سفیر کی تعیناتی کے معاملے پر لفظی جنگ نے اسٹارمر پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور ان کے استعفے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے گزشتہ روز اعتراف کیا ہے کہ مینڈلسن کی تقرری ایک غلطی تھی اور اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

تاہم انہوں نے ذمہ داری وزارتِ خارجہ کے اہلکاروں پر یہ کہتے ہوئے ڈال دی کہ انہیں اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ سیکیورٹی جانچ کرنے والے ادارے نے اس تقرری کے خلاف مشورہ دیا تھا۔

منگل کو وزارتِ خارجہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار اولی رابنز نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مستقل دباؤ کا سامنا تھا۔

انہیں گزشتہ جمعرات کو اس وقت برطرف کر دیا گیا تھا جب اسٹارمر اور وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

رابنز نے کہا کہ اگرچہ انہیں بتایا گیا تھا کہ مینڈلسن کو اس عہدے کے لیے کلیئرنس مل چکی ہے، لیکن تقرری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے شدید دباؤ تھا اور اسے تقریباً طے شدہ معاملہ سمجھا جا رہا تھا۔

مزید پڑھیں: سیکیورٹی کلیئرنس میں ناکام سفیر کی تعیناتی، برطانوی وزیرِاعظم مشکل میں

پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے، ایک موقع پر جذباتی نظر آنے والے رابنز نے کہا کہ وہ ایک ایسی صورتحال میں داخل ہوگئے، جہاں پہلے ہی بہت مضبوط توقع موجود تھی کہ مینڈلسن کو جلد از جلد امریکا میں تعینات کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوری 2025 کے دوران ان کا دفتر اور وزیرِ خارجہ کا دفتر مسلسل دباؤ میں رہے، اور انہیں بار بار فون کالز موصول ہوتی رہیں۔ انہوں نے خود کو ایک موقع پر “قربانی کا بکرا” بھی قرار دیا۔

مزید پڑھیں: برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی فرانسیسی صدر کی نقل، عینک پہن کر حاضرین کو محظوظ کردیا

رابنز کے بیانات سے وزیر اعظم اسٹارمر پر دباؤ میں مزید اضافے کا امکان ہے، 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو بڑی کامیابی دلانے والے اسٹارمر اب کئی ماہ سے جاری اس اسکینڈل کے باعث مستعفی ہونے کے مطالبات کا سامنا کر رہے ہیں۔

تاہم لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ فوری طور پر کیئر اسٹارمر کو ہٹانے کا کوئی امکان نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب 7 مئی کو انگلینڈ میں بلدیاتی انتخابات اور ویلز و اسکاٹ لینڈ میں علاقائی انتخابات میں پارٹی کو بڑے نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی، کچھ بڑا ہونے والا ہے، ٹرمپ کی ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش

2025 کے سیلاب نے پاکستان کے 33 لاکھ سے زائد افراد کے روزگار پر پانی پھیر دیا

پی ایس ایل 11: راولپنڈیز کا ملتان سلطانز کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

امریکا میں موسم  بہار کے دوران برفانی طوفان کی وارننگ، درجہ حرارت میں 50 ڈگری تک کمی کا امکان

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی نیتالی بیکر سے ملاقات، ایران امریکا جنگ بندی میں توسیع پر تبادلہ خیال

ویڈیو

جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی، کچھ بڑا ہونے والا ہے، ٹرمپ کی ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش

لائیوامریکا ایران جنگ بندی مذاکرات کے امکانات قوی تر، دونوں ممالک نے پاکستان دوبارہ آنے کا عندیہ دے دیا

لائیوجے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ

اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

ایک اور ایک گیارہ سے نو دو گیارہ