برطانوی وزارتِ خارجہ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پیٹر مینڈلسن کی بطور سفیر امریکا میں تعیناتی کے ضمن میں وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے دفتر کی جانب سے مسلسل دباؤ کا سامنا رہا تھا۔
سابق اعلیٰ عہدیدار اولی رابنز کے اس انکشاف نے برطانوی وزیرِاعظم کے لیے خطرہ بنتے ہوئے تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین اسکینڈل پر برطانوی وزیراعظم دباؤ میں، متاثرین سے معذرت کرلی
یہ تنازع اس بات پر شدت اختیار کر گیا ہے کہ اپنے ماضی اور بدنام امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے باوجود پیٹرمینڈلسن کو امریکا میں برطانیہ کے اعلیٰ ترین سفارتی عہدے پر کیوں تعینات کیا گیا۔
لیبر پارٹی کے سینیئر رہنما کی امریکا میں بطور برطانوی سفیر کی تعیناتی کے معاملے پر لفظی جنگ نے اسٹارمر پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور ان کے استعفے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے گزشتہ روز اعتراف کیا ہے کہ مینڈلسن کی تقرری ایک غلطی تھی اور اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
تاہم انہوں نے ذمہ داری وزارتِ خارجہ کے اہلکاروں پر یہ کہتے ہوئے ڈال دی کہ انہیں اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ سیکیورٹی جانچ کرنے والے ادارے نے اس تقرری کے خلاف مشورہ دیا تھا۔
🚨 TRUMP ROASTS STARMER LIVE 🫳🎤
“Wrong judgement. A really bad pick.”
Keir Starmer just admitted in Parliament he screwed up big time appointing Epstein-linked Peter Mandelson as US Ambassador — despite failed security vetting that was overruled.
Now even President Trump is… pic.twitter.com/eEAd4qWtgW— CONSTITUTIONAL PATRIOT🇺🇸 (@Constitustion) April 21, 2026
منگل کو وزارتِ خارجہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار اولی رابنز نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مستقل دباؤ کا سامنا تھا۔
انہیں گزشتہ جمعرات کو اس وقت برطرف کر دیا گیا تھا جب اسٹارمر اور وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
رابنز نے کہا کہ اگرچہ انہیں بتایا گیا تھا کہ مینڈلسن کو اس عہدے کے لیے کلیئرنس مل چکی ہے، لیکن تقرری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے شدید دباؤ تھا اور اسے تقریباً طے شدہ معاملہ سمجھا جا رہا تھا۔
مزید پڑھیں: سیکیورٹی کلیئرنس میں ناکام سفیر کی تعیناتی، برطانوی وزیرِاعظم مشکل میں
پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے، ایک موقع پر جذباتی نظر آنے والے رابنز نے کہا کہ وہ ایک ایسی صورتحال میں داخل ہوگئے، جہاں پہلے ہی بہت مضبوط توقع موجود تھی کہ مینڈلسن کو جلد از جلد امریکا میں تعینات کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوری 2025 کے دوران ان کا دفتر اور وزیرِ خارجہ کا دفتر مسلسل دباؤ میں رہے، اور انہیں بار بار فون کالز موصول ہوتی رہیں۔ انہوں نے خود کو ایک موقع پر “قربانی کا بکرا” بھی قرار دیا۔
مزید پڑھیں: برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی فرانسیسی صدر کی نقل، عینک پہن کر حاضرین کو محظوظ کردیا
رابنز کے بیانات سے وزیر اعظم اسٹارمر پر دباؤ میں مزید اضافے کا امکان ہے، 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو بڑی کامیابی دلانے والے اسٹارمر اب کئی ماہ سے جاری اس اسکینڈل کے باعث مستعفی ہونے کے مطالبات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تاہم لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ فوری طور پر کیئر اسٹارمر کو ہٹانے کا کوئی امکان نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب 7 مئی کو انگلینڈ میں بلدیاتی انتخابات اور ویلز و اسکاٹ لینڈ میں علاقائی انتخابات میں پارٹی کو بڑے نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔












