اسرائیل میں جہاں پائیدار سیکیورٹی کا خواب پہلے سے کہیں زیادہ دھندلا دکھائی دے رہا ہے، وہی اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سے اسرائیل جس مسلسل جنگی حالت میں ہے، اس نے ریاست کے بانی تھیوڈور ہرزل کے اس تصور پر سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں جس میں ایک ایسی محفوظ پناہ گاہ کا خواب دیکھا گیا تھا جو نہ صرف یہودیوں کے لیے باعثِ امن ہو بلکہ عالمی تہذیب کے لیے بھی ایک مضبوط فصیل ثابت ہو۔
یہ بھی پڑھیں: طاقتور حملہ ہورہا ہے، ملک چھوڑ دو، ایران کا اسرائیلی عوام کو انتباہ
1896 میں تھیوڈور ہرزل نے اپنی کتاب یہودی ریاست میں جس اسرائیل کا خاکہ پیش کیا تھا، وہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں یہودی دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں ہوں گے۔ آج اسرائیل کے پاس دنیا کی جدید ترین فوج، مستحکم معیشت اور طاقتور ادارے موجود ہیں، لیکن سیکیورٹی کے حوالے سے وہ اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے نے اس اسرائیلی مفروضے کو چکنا چور کردیا کہ محض فوجی برتری اور جدید ترین نگرانی کے نظام سے مکمل تحفظ ممکن ہے۔
اسرائیل کی موجودہ فوجی حکمتِ عملی غزہ اور لبنان میں حماس اور حزب اللہ کی صلاحیتوں کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے کئی اہم اہداف حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن دو سال سے جاری ان آپریشنز نے تزویراتی سطح پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کر دیا
غزہ کا بڑا حصہ کھنڈر بن چکا ہے، انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، لیکن یہ سوال اب بھی تشنہ ہے کہ اگلا قدم کیا ہوگا؟، سیاسی ماہرین کے مطابق، فوجی طاقت سے عارضی خاموشی تو حاصل کی جا سکتی ہے لیکن سیاسی تصفیے کے بغیر پائیدار امن ناممکن ہے۔
روسی اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ قیادت نے طویل عرصے تک حماس کو ایک موزوں حریف کے طور پر دیکھا تاکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکی جا سکے۔ تاہم 7 اکتوبر کے واقعات نے ثابت کیا کہ جمود برقرار رکھنے کی یہ پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی۔
لبنان کا محاذ اسرائیل کے لیے غزہ سے کہیں زیادہ بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ حزب اللہ اب محض ایک گوریلا گروپ نہیں بلکہ ایک ایسی ہائبرڈ فوج بن چکی ہے جس کے پاس ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ راکٹوں کا ذخیرہ موجود ہے۔
امریکا کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے باوجود، اصل مسئلہ جوں کا توں ہے۔ لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی سکت نہیں رکھتی، جبکہ اسرائیل کی فوجی کارروائیاں حزب اللہ سے زیادہ لبنانی عوام اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جس سے مستقبل میں مزید نفرت اور کشیدگی کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو ’ہٹلر‘ ہیں، اسرائیل میں گھس کر ماریں گے، ترک صدر اردوان
اسرائیل میں ہر سال ’یومِ ذکرون‘ منایا جاتا ہے، جو ہلاک ہونے والے فوجیوں کی یاد میں وقف ہے۔ اس سال یہ دن خاصا غمگین تھا کیونکہ یروشلم میں واقع ‘ماؤنٹ ہرزل’ کا فوجی قبرستان اپنی گنجائش کے قریب پہنچ چکا ہے۔
وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک 1,200 سے زائد فوجیوں کی باقیات منتقل کی جاچکی ہیں۔
آج اسرائیل اپنی تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اس کی موجودہ جنگی حکمتِ عملی اسے پائیدار سلامتی کی طرف لے جارہی ہے یا یہ اسے ایک اور بڑے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ہرزل کے تصورِ ریاست میں جو خود مختاری اور سلامتی تھی، وہ آج کے اسرائیل میں محض فوجی طاقت تک محدود ہوکر رہ گئی ہے، جبکہ پائیدار امن کا راستہ اب بھی بند دکھائی دیتا ہے۔












