مشرقِ وسطیٰ بحران: پاکستان کا کردار جنوبی ایشیا سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر نمایاں، امریکی جریدہ

ہفتہ 25 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے عالمی سفارتکاری میں ایک اہم اور مرکزی کردار اختیار کرلیا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جاری بحران میں مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔

امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ میں شائع ایک حالیہ مضمون میں اسلام آباد کے بدلتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت ایک پیچیدہ اور حساس سفارتی ماحول میں کامیابی سے رہنمائی کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے حاشیے سے نکال کر مرکزی حیثیت دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: جے ڈی وینس امریکا سے صورتحال کی نگرانی کریں گے، وائٹ ہاؤس کا پاکستان کو خراجِ تحسین

مضمون میں کہا گیا ہے کہ موجودہ علاقائی تنازع کے آغاز کے بعد پاکستان کی مداخلت کلیدی ثابت ہوئی۔ اپریل کے وسط میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان مذاکرات کا انعقاد ممکن بنایا گیا۔ 12 اور 13 اپریل کو ہونے والی یہ ملاقات 1979 کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت تھی۔

کینیڈین صحافی تانیا گوڈسوزیان اور کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ابراہیم المراشی کے تحریر کردہ مضمون میں پاکستان کی عسکری قیادت کی صلاحیت کو نمایاں کیا گیا ہے، جس نے ایسے وقت میں مکالمے کو ممکن بنایا جب روایتی سفارتکاری تعطل کا شکار تھی۔

مضمون کے مطابق عسکری قیادت کے پاس ایسے منفرد ذرائع اور روابط ہوتے ہیں، جن میں غیر ملکی ہم منصبوں تک براہِ راست رسائی اور مخالف فریقوں سے خفیہ سطح پر رابطے شامل ہیں، جو اکثر سول اداروں کے لیے ممکن نہیں ہوتے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کے پاس رسائی، نظم و ضبط اور اسٹریٹجک روابط کا ایسا نیٹ ورک موجود ہے جو پیچیدہ تنازعات میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے سفارتی اثر و رسوخ کی ایک بڑی وجہ چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن سمیت علاقائی ممالک کے ساتھ اس کے مضبوط تعلقات ہیں۔

سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کے مطابق جدید سفارتکاری میں عسکری سفارتکاری ایک اہم عنصر بن چکی ہے اور ریاستیں اپنی مسلح افواج کی غیر عسکری صلاحیتوں کو خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کے حصول کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عسکری اداروں کا پیشہ ورانہ اور میرٹ پر مبنی نظام اس کے سفارتی کردار کو تقویت دیتا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ سفارتی دورے، جن میں تہران کا دورہ اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی قیادت سے ملاقاتیں شامل ہیں، پاکستان کی عالمی اہمیت کو مزید مستحکم کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: غیر مصدقہ خبروں سے گریز کیا جائے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا گیا ہے۔

اگرچہ خطے میں دیرپا امن کا قیام اب بھی ایک پیچیدہ عمل ہے، تاہم پاکستان کی قیادت کی کوششوں نے مثبت پیش رفت کی راہ ہموار کی ہے۔

مضمون کے مطابق پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داریوں اور عسکری سفارتکاری کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف جنگ بندی کی کوششوں پر اثر ڈالا بلکہ خود کو ایک اہم اور ناگزیر امن شراکت دار کے طور پر منوایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فوجی مشق ’شیک ہینڈز II‘ کا تربیلا میں آغاز

شرح سود میں اضافے پر تاجر تنظیمیں مایوس، معاشی بحالی سے متصادم قرار دیدیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

فیلڈ مارشل کو اللہ نے عزت دی، ایسا مقام پاکستان کو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، گورنر پنجاب

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟