الفاظ میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض افراد انہیں دوسروں کو متاثر یا کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تاہم بظاہر معصوم اور نرم لگنے والے جملے بعض اوقات جذباتی ہیرا پھیری کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ان انداز گفتگو کے پیٹرنز کو سمجھ لیا جائے تو انہیں پہچاننا آسان ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق خاص طور پر رومانوی اور پیشہ ورانہ تعلقات میں کچھ عام جملے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر نارمل لگتے ہیں مگر ان کے پیچھے مختلف نفسیاتی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
ان میں سب سے عام جملہ ’مجھے افسوس ہے کہ تم اتنے پریشان ہو‘ ہے جو بظاہر معذرت لگتا ہے لیکن اکثر اس کے ساتھ فرد کے جذبات کو غیر اہم قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسی طرح بعض افراد تعلقات کے آغاز میں حد سے زیادہ تعریف اور جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں جیسے ’میں جانتا، جانتی ہوں یہ ہی اصل رشتہ ہے‘، اسے ماہرین ’لوو بمبنگ‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ رویہ بعد میں کنٹرول یا انحصار پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
کچھ جملے تعلقات کو محدود کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں جیسے ’ہمیں صرف ایک دوسرے کی ضرورت ہے‘۔ یہ مخاطب کو دوسرے لوگوں سے دور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
اسی طرح ’میں یہ سب تمہاری بھلائی کے لیے کہہ رہا ہوں‘ جیسے جملے بظاہر خیر خواہی لگتے ہیں لیکن بعض اوقات تنقید یا دباؤ کو جائز بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ’کیا تم ٹھیک ہو؟ تم کچھ مختلف لگ رہے ہو‘ جیسے جملے بھی بعض حالات میں انسان کو اپنی سوچ اور حقیقت پر شک میں مبتلا کر سکتے ہیں۔
اسی طرح کسی تیسرے شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ ’وہ تمہارے حق میں نہیں سوچتا، میں بہتر جانتا ہوں‘ بھی دوسروں سے دور کرنے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
مزید برآں ’اگر تم یہی چاہتے ہو تو کر لو‘ جیسے جملے بظاہر آزادی دیتے ہیں لیکن بعض اوقات اس کے پیچھے جذباتی دباؤ یا احساس جرم پیدا کرنے کی کوشش چھپی ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان جملوں کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے تاکہ صحت مند اور غیر صحت مند تعلقات میں فرق کیا جا سکے۔














