وہ چند جملے جو لوگ اکثر بولے جاتے ہیں، کہیں یہ ’جذباتی ہیراپھیری‘ تو نہیں؟

اتوار 26 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

الفاظ میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض افراد انہیں دوسروں کو متاثر یا کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تاہم بظاہر معصوم اور نرم لگنے والے جملے بعض اوقات جذباتی ہیرا پھیری کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ان انداز گفتگو کے پیٹرنز کو سمجھ لیا جائے تو انہیں پہچاننا آسان ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق خاص طور پر رومانوی اور پیشہ ورانہ تعلقات میں کچھ عام جملے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر نارمل لگتے ہیں مگر ان کے پیچھے مختلف نفسیاتی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔

ان میں سب سے عام جملہ ’مجھے افسوس ہے کہ تم اتنے پریشان ہو‘ ہے جو بظاہر معذرت لگتا ہے لیکن اکثر اس کے ساتھ فرد کے جذبات کو غیر اہم قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اسی طرح بعض افراد تعلقات کے آغاز میں حد سے زیادہ تعریف اور جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں جیسے ’میں جانتا، جانتی ہوں یہ ہی اصل رشتہ ہے‘، اسے ماہرین ’لوو بمبنگ‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ رویہ بعد میں کنٹرول یا انحصار پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

کچھ جملے تعلقات کو محدود کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں جیسے ’ہمیں صرف ایک دوسرے کی ضرورت ہے‘۔ یہ مخاطب کو دوسرے لوگوں سے دور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

اسی طرح ’میں یہ سب تمہاری بھلائی کے لیے کہہ رہا ہوں‘ جیسے جملے بظاہر خیر خواہی لگتے ہیں لیکن بعض اوقات تنقید یا دباؤ کو جائز بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ’کیا تم ٹھیک ہو؟ تم کچھ مختلف لگ رہے ہو‘ جیسے جملے بھی بعض حالات میں انسان کو اپنی سوچ اور حقیقت پر شک میں مبتلا کر سکتے ہیں۔

اسی طرح کسی تیسرے شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ ’وہ تمہارے حق میں نہیں سوچتا، میں بہتر جانتا ہوں‘ بھی دوسروں سے دور کرنے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔

مزید برآں ’اگر تم یہی چاہتے ہو تو کر لو‘ جیسے جملے بظاہر آزادی دیتے ہیں لیکن بعض اوقات اس کے پیچھے جذباتی دباؤ یا احساس جرم پیدا کرنے کی کوشش چھپی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان جملوں کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے تاکہ صحت مند اور غیر صحت مند تعلقات میں فرق کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پشاور زلمی کے اشتراک سے پی ایس ایل میں پہلی بار پشتو کمنٹری متعارف

عالمی فوجی اخراجات 2025 میں بڑھ کر 2887 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

آبنائے ہرمز پر ایران کی اجارہ داری قبول نہیں کریں گے، امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کا علاقائی امن کے لیے فعال سفارتکاری جاری رکھنے کا اعلان

قومی احتساب بیورو میں بڑے پیمانے پر تبادلے، ڈائریکٹر عمران سہیل کی اسلام آباد تعیناتی

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟