آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 مئی کو طلب، پاکستان کے لیے قسط کی منظوری کا امکان

اتوار 26 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 2 جاری مالیاتی پروگراموں کے تحت 1.2 ارب ڈالر سے زیادہ کی قسط کی منظوری کے لیے 8 مئی کو اپنے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

آئی ایم ایف حکام کے مطابق یہ رقوم 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی پروگرام کے تحت جاری کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو پیٹرول اور ڈیزل پر 55 روپے تک لیوی لگانی پڑے گی، وفاقی وزیر پیٹرولیم کا انتباہ

پاکستان کو ای ایف ایف کے تیسرے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے کی کامیاب تکمیل کے بعد قریباً ایک ارب ڈالر اور 210 ملین ڈالر کی ادائیگی کا اہل قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے 27 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں پروگراموں کے کامیاب جائزے کے بعد قسط کی منظوری دی جائے گی۔

بعد ازاں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایندھن کی قیمتوں، سبسڈی کے خاتمے اور پیٹرولیم لیوی کے ہدف سے متعلق معاملات پر بات چیت جاری رہی۔

موجودہ مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1.47 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پہلے 9 ماہ میں اس کی وصولی 1.2 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

حکومت اس وقت پیٹرول پر لیوی بڑھانے یا ڈیزل پر دوبارہ لیوی عائد کرنے پر غور کررہی ہے تاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محصولات کے شارٹ فال کو پورا کیا جا سکے۔ جبکہ آئی ایم ایف نے ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی کے مرحلہ وار خاتمے پر بھی زور دیا ہے۔

مزید برآں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پروگرام کے دائرہ کار میں لچک سے متعلق بات چیت بھی جاری ہے، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں طے کی جائے گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے تناظر میں کچھ لچک چاہتی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی مجموعی معاشی کارکردگی پروگرام کے اہداف سے ہم آہنگ رہی ہے، جس میں مالی نظم و ضبط، افراطِ زر پر قابو، توانائی شعبے میں اصلاحات اور سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مستقبل کے معاشی آؤٹ لک کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، درآمدی ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ

پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مالیاتی خسارے کو کم کرنے، ٹیکس نیٹ کو وسیع دینے اور اخراجات میں نظم و ضبط کے ذریعے پائیدار مالی پوزیشن حاصل کرے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل انوائسنگ، ٹیکس آڈٹ اور ادارہ جاتی اصلاحات کو بھی مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp