انگریزی اخبار میں شائع مہتاب حیدر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 5 سالہ نئی آٹو سیکٹر پالیسی متعارف کرانے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر اوسط ٹیرف کو 2030 تک 10.6 فیصد سے کم کرکے 7.4 فیصد تک لایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق 7 ارب ڈالر کے Extended Fund Facility کے تحت یہ بھی طے پایا ہے کہ درآمدات پر کوئی نیا ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں کیا جائے گا، جبکہ آئندہ بجٹ 2026-27 میں اوسط ٹیرف کو 9.5 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔
مزید پڑھیں:آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل، قسط جلد مل جائےگی، وزیر خزانہ
نئی آٹو پالیسی یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے کا امکان ہے، جس کا مقصد مقامی پیداوار بڑھانا، پرزہ جات کی لوکلائزیشن کو فروغ دینا اور گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانا ہے۔

اس پالیسی کے تحت کسٹمز ڈیوٹی کی شرح زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک محدود کی جائے گی اور موجودہ نظام کی جگہ 4 درجوں (0، 5، 10 اور 15 فیصد) پر مشتمل نیا ٹیرف اسٹرکچر متعارف کرایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:آئی ایم ایف کا پاکستان کی معاشی اصلاحات میں پیش رفت پر اظہار اطمینان
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر خان نے کہا کہ آٹو پالیسی حتمی مراحل میں ہے اور جلد وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو پیش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کی جا چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا جبکہ نئی قانون سازی کے تحت گاڑیوں کے لیے ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات بھی متعارف کرائے جائیں گے۔














