صدر مملکت آصف علی زرداری کا 25 اپریل سے یکم مئی 2026 تک جاری سرکاری دورہ چین پاکستان اور چین کے درمیان معاشی و اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے اور اس میں خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے سی پیک ٹو کو آگے بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دورے کے دوران صنعتی تعاون، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے اہم شعبوں پر بات چیت کی جا رہی ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ، گرین انرجی اور روزگار سے متعلق شعبوں میں معیاری ترقی کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری نے صوبہ ہونان میں مختلف اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں، جن میں ہیوی انڈسٹری کا دورہ بھی شامل تھا، جہاں جدید صنعت، زرعی ترقی، اختراع اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس دورے کے ذریعے پاکستان اپنی معیشت میں نئی غیر ملکی سرمایہ کاری لانے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور اپنے 5 ایز فریم ورک جس میں برآمدات، ڈیجیٹل معیشت (ای پاکستان)، ماحولیات، توانائی اور مساوات شامل ہیں، کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی روابط کے نتیجے میں تجارت میں اضافہ، بہتر علاقائی روابط اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

مزید برآں، سی پیک ٹو کے تحت تعاون کا دائرہ کار روایتی انفراسٹرکچر سے بڑھا کر مینوفیکچرنگ، جدت اور گرین ترقی کے شعبوں تک وسیع کیا جا رہا ہے، جس سے صنعتی بہتری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔
سانی ہیوی انڈسٹری سمیت چینی کمپنیوں کے ساتھ ممکنہ اشتراک سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی پیداوار کے فروغ اور روزگار کے مواقع بڑھنے کی بھی امید ہے۔

حکام کے مطابق ہونان اور پاکستان کے درمیان صوبائی سطح پر تعاون زرعی جدیدیت، تجارت کے فروغ اور صحت، تعلیم و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک کو مزید مضبوط بنائے گا، جبکہ پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری انفراسٹرکچر کی بہتری، منڈیوں تک رسائی اور بڑھتی ہوئی غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے طویل مدتی معاشی استحکام کو تقویت ملے گی۔














