ملک بھر خصوصا لاہور میں طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور میں پہنچ گیا۔
ارکان نے لاہور میں 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا انکشاف کیا تو حکام پاور ڈویژن تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ کہیں سپر ٹیکس تو کہیں جگا ٹیکس لگایا جاتا ہے، بس سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی ٹیکس لگانا رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’بجلی بند، گیس بند، کاروبار بند، عوام کی زبان بند، حکمرانوں کی آنکھیں بند‘، بدترین لوڈ شیڈنگ پر صارفین برہم
کامل علی آغا نے کہا کہ لاہور میں 24 گھنٹوں میں سے 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ کیا 48 ہزار میگاواٹ میں سے ساری بجلی ایل این جی پر بنتی ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ آپ کہتے ہیں بجلی سرپلس ہے اور دوسری جانب لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہو رہی۔۔
پاور ڈویژن حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ایل این جی نہیں آ رہی اس لیے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، 600 میگاواٹ کا شارٹ فال ہو تو ایک گھنٹہ کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ اکنامک میرٹ آرڈر کے تحت کہیں کہیں زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ’بجلی بند، گیس بند، کاروبار بند، عوام کی زبان بند، حکمرانوں کی آنکھیں بند‘، بدترین لوڈ شیڈنگ پر صارفین برہم
اجلاس کے دوران کمیٹی کے رکن سینیٹر کامل علی آغا اپنا پارلیمنٹ لاجز کا بل کمیٹی اجلاس میں لے کر آگئے، انہوں نے بتایا کہ ان کا پارلیمنٹ لاجز کا 11 ہزار 800 روپے کا بل آیا ہے۔
کامل آغا کے مطابق ان کے بل میں استعمال ہوئے یونٹس کی قیمت 3300 روپے ہے، باقی سارے ٹیکسز شامل کیے گئے ہیں۔
’102 یونٹ کا 11800 بل آئے تو فی یونٹ کتنی قیمت بنتی ہے؟ آپ صارفین کو کنزیومر نہیں بکرے کہا کریں۔‘
مزید پڑھیں: مہنگے ایندھن سے بچنے کے لیے روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ
پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ جب سے سولر آیا ہے تب سے 200 یونٹ والا سلیب تبدیل ہو گیا ہے، بکرا تو معذرت کے ساتھ اس وقت حکومت بنی ہوئی ہے۔۔
اجلاس میں سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ فرسٹ وومن بینک صرف 4 ارب روپے میں بیچ دیا گیا۔
’ہم نے سینیٹ میں کہا تھا کہ یہ بینک 12 ارب روپے میں ہمیں دے دیں، 11 ارب روپے کے تو فرسٹ وومن بینک کے اثاثے تھے، نجکاری نے موج لگا دی ہے۔‘
ایڈیشنل سیکریٹری پاور ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت جنکو ہولڈنگ کمپنی کو ختم کر رہی ہے۔
سیف اللہ ابڑو نے انکشاف کیا کہ حکومت نے پرانے پاور پلانٹس کی نیلامی کی مگر اس کے پیسے ابھی تک وصول نہیں ہوئے ۔














