حکومت نے ایندھن کی قلت کے پیش نظر منگل کے روز باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں ممکنہ بڑے اضافے سے بچنے کے لیے ’پیک آورز‘ کے دوران روزانہ 2 گھنٹے سے زائد لوڈ مینجمنٹ کیا جائے گا۔
پاور ڈویژن کے جاری کردہ بیان کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان روزانہ تقریباً سوا 2 گھنٹے کے لیے بجلی کی فراہمی معطل رکھی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد مہنگے ایندھن کے استعمال میں کمی لانا اور بجلی کے نرخوں میں اچانک اضافے کو روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایندھن بحران کا خدشہ، پاکستان نے غیر ملکی ایئرلائنز پر سخت پابندیاں عائد کردیں
یہ صورتحال قطر کی جانب سے اپنے گیس فیلڈ پر حملوں کے بعد فورس میجر قرار دینے کے نتیجے میں مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی درآمدات معطل ہونے سے پیدا ہوئی ہے۔
قطر پاکستان کو طویل المدتی معاہدوں کے تحت یومیہ ایک ارب مکعب فٹ تک ایل این جی فراہم کرنے والا بڑا سپلائر ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی طلب پوری کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم پیک آورز کے دوران، خاص طور پر پن بجلی کی پیداوار کم ہونے کے باعث، چیلنجز بڑھ جاتے ہیں۔
پاور ڈویژن نے شام کے اوقات میں ملک بھر میں سوا 2 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا اعلان کردیا
شام 5 بجے سے رات 1:00 بجے کے دوران روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی بند کی جائے گی
پیک آورز میں2.25گھنٹے کی لوڈ منیجمنٹ کا مقصد بجلی کی قیمت میں تقریباً3روپے فی یونٹ اضافے کو روکنا ہے #ترجمان_پاور_ڈویژن pic.twitter.com/wvk4ZXJ0WG— Jamshaid swati (@jamshaidswati) April 14, 2026
شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جسے مہنگے ایندھن سے پورا کرنے کی صورت میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ حکومت کی مسلسل کوششوں سے ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
جولائی سے فروری تک اوسط ٹیرف میں فی یونٹ 71 پیسے کمی ہوئی، جس سے مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا ریلیف ملا۔
مزید پڑھیں: ایندھن کا بحران: آپ فیول کی بچت کیسے کر سکتے ہیں؟
پاور ڈویژن کے مطابق یہ کمی ساختی اصلاحات، ہدفی ریلیف اقدامات، بہتر منصوبہ بندی اور نظام کی مؤثر کارکردگی کے ذریعے ممکن ہوئی۔
کم لاگت بجلی کے ذرائع کو ترجیح دی گئی جبکہ ترسیل اور انتظامی نظام میں بہتری سے نقصانات کم ہوئے۔
مزید کہا گیا کہ ان اقدامات سے نظام کی مجموعی کارکردگی بہتر ہوئی اور صارفین کو پائیدار ریلیف فراہم کیا گیا۔
— MOE- Power Division, Government of Pakistan (@MoWP15) April 14, 2026
عالمی حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم رہی اور نظام طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان کے مطابق صورتحال کی مسلسل نگرانی وزیر اعظم شہباز شریف کی براہ راست نگرانی میں کی جا رہی ہے۔
حکومت نے ہدایت دی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں بڑا اضافہ نہ ہونے دیا جائے، اور اگر فرنس آئل کے استعمال سے کچھ اضافہ ہوتا بھی ہے تو اسے کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے۔
مزید پڑھیں: تیل کے عالمی بحران کے دوران توانائی کے صاف اور قابل تجدید ذرائع پر اعتماد بڑھنے لگا، رپورٹ
اسی سلسلے میں پاور پلانٹس کو 80 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس فراہم کی گئی ہے، جس سے فی یونٹ تقریباً 80 پیسے اضافے سے بچاؤ ممکن ہوا اور اضافی لوڈ مینجمنٹ کی ضرورت بھی کم ہوئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق پیک آورز میں 2.25 گھنٹے کی محدود لوڈ مینجمنٹ کا مقصد فی یونٹ تقریباً 3 روپے اضافے کو روکنا ہے۔
اگرچہ فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود فی یونٹ تقریباً ڈیڑھ روپے اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم ان اقدامات کے بغیر یہ اضافہ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتا تھا۔
مزید پڑھیں: عالمی توانائی بحران مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا انتباہ
تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فیڈر کی سطح پر لوڈ شیڈنگ کا شیڈول صارفین کے ساتھ شیئر کریں تاکہ عوام کو پیشگی آگاہی ہو۔
غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ مقامی خرابی کی صورت میں متعلقہ دفاتر صارفین کو مطلع کریں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت عالمی حالات کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی توانائی بحران مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا انتباہ
یہ اقدام روایتی لوڈ شیڈنگ نہیں بلکہ ’پیک ریلیف اسٹریٹجی‘ کا حصہ ہے جس کا مقصد پیک آورز میں بجلی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔
مزید پڑھیں:حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں، خصوصاً تجارتی مراکز کو بروقت بند کرنے سے طلب میں مزید کمی لا کر بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے کو محدود کیا جا سکتا ہے۔














