جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کی خبروں کی حقیقت سامنے آگئی۔
آزاد کشمیر پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی تمام افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ عناصر ریاست میں افرا تفری پھیلانا چاہتے ہیں۔
قبل ازیں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ 29 ستمبر کے واقعات پر ایکشن کمیٹی رہنماؤں شوکت نواز میر، انجم زمان اعوان اور راجہ صہیب جاوید کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد، کیا پی ٹی آئی بھی زد میں آسکتی ہے؟ حکومتی آرڈیننس جاری
اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر نے ایک ویڈیو بیان میں کہاکہ یہ اقدام حکومت اور پولیس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق 4 اور 5 اکتوبر کی بات چیت میں یہ طے ہوا تھا کہ مسائل کے مکمل حل تک تمام مقدمات کو مؤخر رکھا جائے گا اور بعد میں انہیں مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں بھی اسی نوعیت کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم اب پولیس نے مبینہ طور پر غیر مستند گواہوں کی بنیاد پر چالان عدالت میں پیش کر کے ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کے وارنٹ حاصل کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی پھر میدان میں آگئی، حکومت کو نئی ڈیڈلائن دیدی
واضح رہے کہ 29 ستمبر 2025 کو آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ہونے والے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے تھے جن میں پولیس اہلکاروں سمیت عام شہری بھی جاں بحق ہوئے تھے۔
بعد ازاں وفاقی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایکشن کمیٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ زیادہ تر مطالبات پورے کیے جا چکے ہیں، تاہم ایکشن کمیٹی اس دعوے کو مسترد کرتی ہے اور اس نے 9 جون کو دوبارہ لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔














