آزاد جموں و کشمیر الیکشنز (ترمیمی) آرڈیننس 2026 جاری کردیا گیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974 کے تحت صدرِ ریاست نے الیکشنز ایکٹ 2020 میں ترامیم کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر الیکشنز (ترمیمی) آرڈیننس 2026 جاری کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پارٹی رجسٹریشن کیس، پی ٹی آئی آزاد کشمیر کو نوٹس جاری
آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ آرڈیننس کا مقصد انتخابی نظام کو مزید بہتر اور موجودہ حالات کے مطابق ہم آہنگ بنانا ہے۔
ترمیم کے بعد مہاجرین کے ووٹ کے حق میں آسانی ہوگی۔ آرڈیننس کے تحت 1989 کے مہاجرین جو ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ یا آزاد کشمیر کے اندر اپنی رہائش تبدیل کرچکے ہیں، انہیں نئی رہائش گاہ پر ووٹ کے اندراج اور حقِ رائے دہی کی اجازت دے دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے افراد کی سہولت کے لیے ضروری طریقہ کار اور انتظامات وضع کرے۔ اسی طرح انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کا اختیار الیکشن کمیشن کو دیا گیا ہے کہ وہ اس شق پر عمل درآمد کے لیے ضمنی یا اپڈیٹڈ انتخابی فہرستیں تیار کرے تاکہ کسی ووٹر کا حق متاثر نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: وزارتِ داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا
نئی ترمیم کے بعد سیاسی جماعتوں سے متعلق شق آرڈیننس کے مطابق اگر پاکستان میں کسی سیاسی جماعت پر پابندی، تحلیل یا ممانعت عائد ہو تو اس جماعت کی آزاد کشمیر میں موجود شاخیں، ذیلی تنظیمیں یا نمائندہ اکائیاں بھی خود بخود ممنوع تصور ہوں گی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق اسمبلی کا اجلاس جاری نہ ہونے اور فوری قانونی ضرورت کے پیش نظر یہ آرڈیننس جاری کیا گیا ہے تاکہ انتخابی معاملات میں ابہام پیدا نہ ہو اور نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ ہوگیا ہے اور الیکشن کمیشن آزاد کشمیر اس پر عمل درآمد کا پابند ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں بروقت الیکشن کی راہ ہموار، غلام مصطفیٰ مغل نے چیف الیکشن کمشنر کا حلف اٹھالیا
واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان ملک میں کالعدم ہے اور اس آرڈیننس کی بنیاد پر ریاست میں از خود کالعدم تصور ہوگی جبکہ پی ٹی آئی کی رجسٹریشن کا معاملہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے پاس زیر سماعت ہے۔














