پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔ عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے بقیہ 25 فیصد شیئرز خریدنے کے لیے رقم جمع کرا دی ہے، جس کے بعد اب ایئرلائن کی مکمل ملکیت اس کنسورشیم کو منتقل ہوگئی ہے۔
اہم مالیاتی تفصیلات اور بینک گارنٹی
عارف حبیب کنسورشیم کے مطابق معاہدے کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے 45 ارب روپے کی بینک گارنٹی جمع کرا دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے آئندہ ڈھائی سال کے دوران اپنے فلیٹ میں کتنے طیارے شامل کرے گی؟
حکومتِ پاکستان نے نجکاری معاہدے کے تحت عارف حبیب کنسورشیم کو بقیہ 25 فیصد شیئرز خریدنے کا آپشن فراہم کیا تھا، جسے کنسورشیم نے استعمال کر لیا ہے۔ اس سے قبل یہ گروپ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کا مالک تھا۔
عارف حبیب کنسورشیم نے بقیہ 25 فیصد شیئرز کے لیے لیٹر آف کریڈٹ جمع کرا دیا ہے جب کہ اسٹینڈ بائی ایل سی اور بینک گارنٹی نجکاری کمیشن کو سونپ دی ہے۔
عارف حبیب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پی آئی اے کو جلد ٹیک اوور کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔ 28 اپریل آخری تاریخ تھی اور آج باقی شیئرز کے لیے پیشکش بھیج دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کمیشن کو کہا ہے کہ ایف بی آر سے جہازوں کے لیے این او سی فوری دلوایا جائے۔
انتظامی کنٹرول کی منتقلی
پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام مالیاتی اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد توقع ہے کہ مئی 2026 میں عارف حبیب کنسورشیم پی آئی اے کا مکمل انتظامی کنٹرول سنبھال لے گا۔
اس تبدیلی سے ایئرلائن کے آپریشنز، فلائٹ شیڈول اور سروسز میں بڑی اصلاحات کی توقع کی جا رہی ہے۔
کنسورشیم کے اہم شراکت دار
پی آئی اے کو خریدنے والا یہ کنسورشیم پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس کا مجموعہ ہے، جس میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی، لیک سٹی، فاطمہ گروپ، عارف حبیب لمیٹڈ، دی سٹی اسکول، اے کے ڈی گروپ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: 6 سال بعد پی آئی اے کا لندن کا فضائی آپریشن بحال، فرسٹ آفیسر فرح حسین کی لندن سے لاہور تاریخی پرواز
مستقبل کی توقعات
مکمل کنٹرول سنبھالنے کے بعد عارف حبیب کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے خسارے میں کمی آئے گی اور طیاروں کی تعداد میں اضافے سمیت بین الاقوامی روٹس پر سروسز کو بہتر بنایا جا سکے گا، اور یہ ملکی معیشت اور ہوا بازی کی صنعت کے لیے ایک سنگ ہے۔













