انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے مشرق میں ایک ہی ریلوے لائن پر 2 ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 84 زخمی ہو گئے۔
متعدد مسافر اب بھی ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ امدادی ٹیمیں انہیں نکالنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا میں ہیلی کاپٹر حادثہ، 8 افراد جاں بحق
یہ حادثہ پیر کی رات اس وقت پیش آیا جب ایک طویل فاصلے کی مسافر ٹرین نے بیکاسی تیمور اسٹیشن پر کھڑی ایک مسافر ٹرین کے پچھلے حصے سے ٹکر مار دی۔
رکی ہوئی ٹرین اس وقت لائن کی بحالی کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ اس سے قبل ایک اور حادثہ پیش آیا تھا، جس میں ایک تیسری مسافر ٹرین نے ریلوے کراسنگ پر خراب کھڑی ایک ٹیکسی کو ٹکر مار دی تھی۔
🇮🇩 More than a dozen killed in Indonesia train collision
The country's president has ordered an investigation after a long-distance train smashed into a stationary commuter train overnight, killing at least 14 people and injuring dozens. State‑owned rail operator KAI said a taxi… pic.twitter.com/14XAwT50K9
— AFP News Agency (@AFP) April 28, 2026
تمام ہلاک اور زخمی افراد اسی کھڑی ٹرین میں سوار تھے۔ زیادہ تر متاثرین خواتین تھیں جو آخری بوگی میں سفر کر رہی تھیں، جسے صرف خواتین کے لیے مختص کیا گیا تھا۔
قومی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد سیافی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی ٹیم ان زندہ بچ جانے والوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے جو ٹرین کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
’کچھ متاثرین اب بھی زندہ ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ انہیں نکال لیا جائے گا۔ اس کے لیے ماہر عملے کی ضرورت ہے تاکہ احتیاط سے ریسکیو کیا جا سکے۔‘
مزید پڑھیں: انڈونیشیا میں میانمار کے صدر کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے حادثے کی وجوہات کی فوری اور جامع تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
زخمیوں کی عیادت کے دوران انہوں نے کہا کہ ریلوے کراسنگز پر حفاظتی مسائل کے حل کے لیے مزید فلائی اوورز تعمیر کیے جائیں گے، خاص طور پر گنجان آباد علاقوں میں جہاں مناسب نگرانی موجود نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جاوا بھر میں تقریباً 1800 ریلوے کراسنگز فوری توجہ کی متقاضی ہیں، جنہیں یا تو ختم کرنا ہوگا یا مستقل نگرانی میں لانا ہوگا۔
مزید پڑھیں: انڈونیشیا کے جزیرے پر لینڈ سلائیڈنگ، 38 افراد جاں بحق، درجنوں لاپتا
صدر نے اعتراف کیا کہ انڈونیشیا کے 4500 میل طویل ریلوے نیٹ ورک کے بڑے حصے میں مناسب دیکھ بھال کا فقدان ہے۔
حکومت آئندہ 20 برسوں میں اسے بڑھا کر 13,500 میل تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے، جو 70 ارب ڈالر کے ایک بڑے پبلک پرائیویٹ منصوبے کا حصہ ہے۔
انڈونیشیا میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مجموعی حفاظتی ریکارڈ کمزور رہا ہے، جس کی بڑی وجہ ناقص دیکھ بھال اور پرانے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن میں کمی ہے۔
واضح رہے کہ جنوری 2024 میں مغربی جاوا کے شہر بانڈونگ کے قریب 2 ٹرینوں کے تصادم میں 4 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے تھے۔












