انڈونیشیا کے جزیرے پر لینڈ سلائیڈنگ، 38 افراد جاں بحق، درجنوں لاپتا

بدھ 28 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 38 تک پہنچ گئی جبکہ درجنوں افراد ابھی بھی لاپتا ہیں، حکام نے بدھ کو بتایا، یہ حادثہ چند دن پہلے ایک پہاڑی گاؤں سے ملبہ بہنے کے باعث پیش آیا تھا۔

بھاری بارشوں کی وجہ سے ہفتے کے روز پاسرلانگو گاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس نے درجنوں مکانات تباہ کردیے اور سیکڑوں افراد کو بے گھر کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا کے تلاؤد جزیرے پر 6.8 شدت کا زلزلہ

 بندونگ سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ آدے دیان پرمانا کے مطابق بدھ شام 6:30 بجے تک 38 لاشیں شناخت کی جاچکی ہیں جبکہ 27 افراد لاپتا ہیں۔

ریسکیو ٹیمیں جاوا جزیرے کے ویسٹ بندونگ علاقے میں غیر مستحکم زمین پر ہاتھوں اور بھاری مشینری کے ذریعے امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں، لیکن شدید موسم کی وجہ سے مزید لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے باعث احتیاط سے کام کر رہی ہیں۔

انڈونیشین نیوی کے مطابق 23 فوجی بھی اس حادثے میں پھنس گئے، جو انڈونیشیا کی پاپوا نیو گنی سرحد پر تعیناتی سے قبل علاقے میں ٹریننگ کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جنوب مشرقی ایشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی؛ ہلاکتیں 1,750 سے تجاوز

مقامی حکام کے مطابق اس آفت سے 50 سے زائد مکانات شدید متاثر ہوئے اور 650 سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔

ویسٹ جاوا کے گورنر ڈیڈی مولیادی نے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ پاسرلانگو کے ارد گرد پھیلے سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال ہونے والے وسیع پلانٹیشنز کو قرار دیا اور متاثرہ رہائشیوں کو منتقل کرنے کا وعدہ کیا۔

حکومت نے گزشتہ سال سماراٹا جزیرے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں جنگلات کی کمی کے کردار کی نشاندہی کی تھی، جس میں تقریباً ایک ہزار 200 افراد جاں بحق اور 2 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ بے گھر ہوئے تھے۔ جنگلات بارش کو جذب کرنے اور زمین کو جڑوں کے ذریعے مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کی کمی لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلپائن اور انڈونیشیا میں 7.4 شدت زلزلے کے بعد سونامی کا خطرہ ٹل گیا

انڈونیشیا کے وسیع جزائر میں بارش کے موسم کے دوران، جو عموماً اکتوبر سے مارچ تک رہتا ہے، اس قسم کے حادثات عام ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟