پاکستان نے وار زون میں وہ صورتحال بنائی جو کوئی ثالث نہیں بنا سکتا تھا، معروف سفارتکار عمران علی

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے معروف سفارتکار عمران علی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور سیز فائر کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور وار زون میں وہ صورتحال بنائی جو کوئی ثالث نہیں بنا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا تنازع: قطر نے پاکستان کی ثالثی کو مؤثر قرار دے دیا، مذاکرات کا دائرہ محدود رکھنے پر زور

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے عمران علی نے کہا کہ پاکستان کا کردار ثالث سے زیادہ خیرخواہ کا تھا جس کے نتیجے میں ایک ایسا دستاویز تیار کیا گیا جس کے 70 سے 80 فیصد نکات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

سفارتکار عمران علی نے کہا کہ ان سفارتی کوششوں میں اس وقت ایک بڑی تبدیلی آئی جب پاکستانی قیادت نے ایران کا دورہ کیا اور اسے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما تھا کہ ایران کے اس اقدام کے جواب میں امریکا اپنی اقتصادی ناکہ بندی ختم کر دے گا تاہم امریکی پالیسی میں عدم تسلسل کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

عمران علی کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے تہران میں کچھ خدشات کو جنم دیا،جس کے جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی بعض اوقات غیر متوقع رخ اختیار کر لیتی ہے۔

مزید پڑھیے: سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ ملک ہم سب کا ہے، فضل الرحمان کی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں پاکستان نے تجویز دی ہے کہ مستقل حل کے لیے جوہری معاملے کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنایا جانا چاہیے کیونکہ امریکا کی جانب سے کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے یہ نکتہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں پاکستانی وفد کے دورہ عمان اور ماسکو کے دوران ہونے والی بات چیت میں یورینیم کی منتقلی جیسے تکنیکی اور حساس امور بھی زیر بحث آئے ہیں۔

عمران علی کا کہنا تھا کہ مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک ایسا فارمولا وضع کرنے کی ضرورت ہے جسے دونوں فریق اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرسکیں خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کے پیش نظر جو ایک ایسے عالمی معاہدے کا کریڈٹ لینا چاہیں گے جو سابقہ حکومتیں حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر موجودہ دباؤ کے تحت معاملات درست سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو ایک ماہ کے اندر بڑی پیشرفت متوقع ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تناظر میں بدلتے ہوئے حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کا روایتی کردار کمزور ہو رہا ہے اور دنیا مختلف طاقت کے مراکز میں تقسیم ہو رہی ہے۔ اس نئے عالمی نظام میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر جیسی علاقائی قوتوں کی اہمیت بڑھ جائے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

عمران علی نے کہا کہ ’پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کر کے معاشی استحکام حاصل کرے کیونکہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی صورت میں گوادر اور چابہار پورٹس کے درمیان اشتراک سے علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے اس تمام تر صورتحال میں جہاں سفارتی محاذ پر متحرک کردار ادا کیا ہے وہیں دہشتگردی کے خلاف سخت پالیسی اپنا کر اپنی بین الاقوامی ساکھ کو بھی بہتر بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی پاکستانیوں سے متاثر، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اہم قرار دیدی

سفارتکار نے کہا کہ خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ سفارتی اور دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنا پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کوششوں کا مقصد ایک ایسے پرامن ماحول کا قیام ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp