برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس سوم نے امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال اور تنازعات کے باوجود برطانیہ اور امریکا جمہوریت کے دفاع میں ہمیشہ مضبوط اتحادی رہیں گے۔
مزید پڑھیں: ماحولیاتی فیشن ڈیزائنر کا کنگ چارلس کی فلاحی تنظیم پر 6 ملین پاؤنڈ ہرجانے کا دعویٰ
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بادشاہ نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک اپنے عوام کے تحفظ اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے متحد ہیں۔ اس موقع پر ملکہ کمیلا بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
King Charles spoke of the need for “unyielding resolve” for Ukraine during his speech in the US Congress:
In the immediate aftermath of 9-11, when NATO invoked Article 5 for the first time, and the United Nations Security Council was united in the face of terror, we answered the… pic.twitter.com/ZoplpTaqYe
— Anton Gerashchenko (@Gerashchenko_en) April 28, 2026
خطاب کے دوران کنگ چارلس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو پر تنقید، یوکرین جنگ میں امریکی حمایت کی اہمیت اور تنہائی پسندی کے خطرات کا بالواسطہ حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے اسی عزم کی ضرورت ہے جو ماضی میں مشترکہ خطرات کے مقابلے کے لیے دکھایا گیا۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کنگ چارلس بھی اس مؤقف سے متفق ہیں، تاہم بادشاہ نے اپنے خطاب میں ایران یا جاری جنگ پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔
یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور برطانیہ کے تعلقات میں ایران سے متعلق جنگ کے معاملے پر تناؤ پایا جاتا ہے، اور امریکی صدر کیئر اسٹارمر پر تعاون نہ کرنے کی تنقید کرتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پرنس ہیری کی کنگ چارلس سے ملاقات نے میگھن مارکل کے خدشات بڑھا دیے
کنگ چارلس نے اپنے خطاب میں ماحولیاتی تحفظ پر بھی زور دیا اور کہا کہ آئندہ نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ وہ امریکی کانگریس سے خطاب کرنے والے دوسرے برطانوی فرمانروا ہیں، اس سے قبل ملکہ ایلزیتھ دوم نے 1991 میں کانگریس سے خطاب کیا تھا۔














